نیپال میں وزیر اعظم بالین شاہ کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سیاسی حلقوں میں ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ سابق وزیر اعظم کے پی شرما اولی اور سابق وزیر داخلہ رمیش لیکھک کی گرفتاری کے بعد اب سابق وزیر اور نیپالی کانگریس کے لیڈر دیپک کھڑکا کو نیپال کے سینٹرل انویسٹیگیشن بیورو (سی آئی بی) نے گرفتار کر لیا ہے۔سی آئی بی نے دیپک کھڑکا کو منی لانڈرنگ کے ایک معاملے میں گرفتار کیا ہے۔ سی آئی بی کے ترجمان شیو کمار شریستھا کے مطابق نیپال پولیس کے سینٹرل انویسٹیگیشن بیورو نے اتوار کی صبح کھڑکا کو بدھنیل کنٹھا سے حراست میں لیا۔ پولیس کے مطابق ان کے خلاف منی لانڈرنگ سے متعلق الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔
نیپالی اخبار دی کٹھمنڈو پوسٹ کے مطابق سی آئی بی کے سربراہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس منوج کے سی نے بتایا کہ منی لانڈرنگ انویسٹیگیشن ڈپارٹمنٹ نے پہلے پولیس ہیڈکوارٹر کو خط لکھ کر کھڑکا سے پوچھ گچھ کی درخواست کی تھی۔ پولیس ہیڈکوارٹر کی اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں مزید تحقیقات کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر 2025 کو ہونے والی توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے بعد کھڑکا، سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور پشپ کمل دہل کے گھروں سے جلے ہوئے کرنسی نوٹوں کے ٹکڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ بعد ازاں فارنزک لیب ٹیسٹ میں ان شواہد کی تصدیق بھی ہوئی تھی۔نیپالی میڈیا کے مطابق دیپک کھڑکا بطور توانائی، آبی وسائل اور آبپاشی کے وزیر اپنے دور میں متعدد تنازعات میں گھرے رہے۔ خاص طور پر ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے لائسنس جاری کرنے اور ٹھیکے دینے کے معاملات میں ان کا نام سامنے آیا تھا۔ ان پر منصوبوں کے لائسنس اور ٹھیکے دلانے کے بدلے مالی فائدہ لینے کے الزامات بھی لگائے گئے تھے۔ مزید یہ کہ کھڑکا پر لینچور میں نیپال اسکاوٹس کی زمین میں مبینہ بے ضابطگیوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی ہے۔ حکام اس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
