Bharat Express DD Free Dish

CBI

چیف جسٹس سوریا کانت، جسٹس جویمالیا باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کہا کہ بہت زیادہ امکان ہے کہ ان شکایات کے پیچھے بلڈر ہوں اور ممکن ہے کہ کچھ ایسے وکلا بھی ہوں، جنہوں نے انہیں اس طرح کی غلط صلاح دی ہو۔عدالت نے واضح الفاظ میں کہا، انہیں سمجھنا ہوگا کہ ہم مضبوط لوگ ہیں۔ ایسی حرکتیں ہمیں پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔ ہمیں دباؤ میں لینے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ 12 مئی کی رات 9 بج کر 36 منٹ پر بھیجا گیا یہ میسج تحقیقات کا اہم ترین حصہ بن گیا ہے۔ ایجنسی کے مطابق اس پیغام سے ان مبینہ ذہنی اذیتوں اور دباؤ کا اندازہ ہوتا ہے، جن کا سامنا ٹوِیشا کو کرنا پڑ رہا تھا۔چارج شیٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ شوہر سمرتھ سنگھ اور ساس گری بالا سنگھ کی جانب سے مبینہ طور پر کی جانے والی ذہنی ہراسانی اور دباؤ نے ٹوِیشا کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کا 26 دسمبر 2024 کو انتقال ہو چکا تھا، جس کے باعث ان کے خلاف جاری سمن عملی طور پر غیر مؤثر ہو چکا تھا۔ تاہم، ان کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کپل سبل کی درخواست پر سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کے حکم کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا۔

سی بی آئی نے 27 فروری کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے اروند کیجریوال، منیش سسودیا، درگیش پاٹھک سمیت تمام ملزمان کو بری کیے جانے کے فیصلے کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ تحقیقی ایجنسی کا موقف ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکتا، کیونکہ مقدمے میں ایسے کافی شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر ملزمان کے خلاف کارروائی جاری رہنی چاہیے۔

سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ اس مبینہ پرچہ لیک کی وجہ سے سرکاری خزانے کو تقریباً 600 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔ ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس تنازع کے بعد کئی طلبہ نے خودکشی کرلی، جس سے معاملے کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

ٹوشا یشرما، جو ایک ماڈل اور اداکارہ تھیں، رواں برس 12 مئی کو مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں اپنے سسرال کے گھر میں پھندے سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھیں۔ ان کے جسم پر متعدد چوٹوں کے نشانات ملنے کے بعد معاملہ مشتبہ بن گیا تھا اور موت کی وجوہات پر کئی سوالات اٹھائے گئے تھے۔

سی بی آئی کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق اس معاملے کی شروعات 8 جون کو ہوئی تھی۔ اس وقت ایجنسی نے دہلی پولیس کے انسپکٹر پردیپ سنگھ اور دو دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ تحقیقات کے دوران سی بی آئی کو معلوم ہوا کہ آئی پی ایس افسر دیپک گہلاوت نے مبینہ طور پر رشوت کا مطالبہ کیا تھا۔

آچاریہ پرمود کرشنم نے مبینہ رام مندر چندہ خرد برد معاملے کی سی بی آئی سے تحقیقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں اعلیٰ سطحی جانچ بے حد ضروری ہے۔

سائبر فراڈ نیٹ ورک کے خلاف سی بی آئی کی بڑی کارروائی۔ شیل کمپنیوں اور فرضی بینک کھاتوں کے ذریعے تقریباً دو کروڑ روپے کی منی لانڈرنگ کا انکشاف۔ 16 ریاستوں میں بیک وقت چھاپے، 60 خصوصی ٹیمیں تشکیل۔

ریلائنس کمرشل فنانس اور ریلائنس ہوم فنانس کے سابق سربراہان پر سرکاری بینکوں کے فنڈز کے مبینہ غلط استعمال کا الزام۔ سی بی آئی نے 29 مئی کو آر کام معاملے میں پہلی چارج شیٹ داخل کی تھی، جس میں کمپنی، اس کے پانچ سینئر عہدیداروں اور 10 بینک افسران سمیت 16 افراد کو ملزم بنایا گیا تھا۔