Bharat Express DD Free Dish

CBI

کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سی بی آئی نے پنچکولہ کی خصوصی عدالت میں پہلی چارج شیٹ بھی داخل کر دی ہے، جب کہ مزید گرفتاریاں اور انکشافات متوقع ہیں۔سی بی آئی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور آنے والے دنوں میں اس مبینہ گھپلے میں مزید بڑے نام سامنے آ سکتے ہیں۔

ٹویشا شرما موت معاملے میں سی بی آئی نے جائے وقوعہ پر کرائم سین کی دوبارہ تشکیل دے کر تفتیش کو نئی سمت دی ہے۔ 80 کلو وزنی ڈمی پتلے اور فارنزک جانچ کے ذریعے ملزمان کے بیانات کی سچائی اور واقعاتی تسلسل کی باریک بینی سے پڑتال کی جا رہی ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق 9 دسمبر 2025 کو نوئیڈا میں ہندو رسم و رواج کے تحت ہونے والی شادی کے بعد سے ہی ٹویشا کو مسلسل اضافی 20 لاکھ روپے کے لیے ہراساں کیا جا رہا تھا، حالانکہ اس کے خاندان نے اپنی حیثیت سے زیادہ جہیز دیا تھا۔تحقیقات کے مطابق 12 مئی 2026 کی رات ٹویشا نے کئی بار اپنے میکے والوں سے فون پر بات کی تھی۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے کی تفتیش کا دائرہ اب پونے کے بعض پروفیسروں اور اساتذہ تک بھی پہنچ سکتا ہے۔ کچھ اساتذہ سے پوچھ گچھ کی تیاری کی جا رہی ہے اور ان کے کردار کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سی بی آئی اس پورے نیٹ ورک سے جڑے ہر فرد کی شناخت کرنے میں مصروف ہے۔

سوربھ بھاردواج نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے ای ڈی کی کارروائی پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ دیپک سنگلا کے دہلی اور گوا میں واقع متعدد ٹھکانوں پر چھاپے مارے گئے ہیں اور پارٹی لیڈروں کو مسلسل ای ڈی، سی بی آئی اور اے سی بی جیسی ایجنسیوں کے ذریعے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

گرفتار ملزم پی وی کلکرنی مہاراشٹر کے لاتور کا رہنے والا ہے۔ وہ ماضی میں لاتور کے دیانند کالج میں کیمسٹری کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دے چکا ہے اور اب ریٹائر ہو چکےہیں۔ سی بی آئی کے مطابق وہ طویل عرصے سے این ٹی اے کی امتحانی کارروائیوں سے جڑا ہوا تھا،

سی بی آئی نے پیپرلیک معاملے میں تین ملزمین کوجے پور، ایک کوناسک سے اورایک کو گرو گرام سے گرفتار کیا ہے۔ اس کے علاوہ کئی دیگرمشتبہ افراد سے پوچھ گچھ جاری ہے۔

امتحان کو دوبارہ منعقد کیا جائے گا تاکہ طلبہ کو شفاف اور منصفانہ ماحول میں امتحان دینے کا موقع مل سکے۔ اس سلسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ دوبارہ امتحان کے لیے طلبہ کو کسی نئے رجسٹریشن کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ ہی ان سے کوئی اضافی فیس وصول کی جائے گی۔

این سی بی نے ممبئی میں 1745 کروڑ روپے مالیت کی 349 کلو کوکین ضبط کر کے بین الاقوامی منشیات نیٹ ورک کا پردہ فاش کر دیا ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ نے ٹیم کو مبارکباد دی ہے۔

ڈیجیٹل فراڈ میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال پر بھی حکومت نے سخت مؤقف اپنایا ہے۔ خاص طور پر واٹس ایپ کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کمپنی نے حکومت کے ساتھ مل کر کئی اہم اقدامات کیے ہیں۔ ان میں حذف شدہ اکاؤنٹس کا ڈیٹا 180 دن تک محفوظ رکھنا، جعلی ڈیوائس آئی ڈیز کو بلاک کرنا اور مشتبہ کالز یا پیغامات پر صارفین کو فوری الرٹ فراہم کرنا شامل ہے۔