Bharat Express DD Free Dish

CBI

10 اور 11 فروری 2026 کو ہونے والی اس دو روزہ کانفرنس کی سب سے بڑی پیش رفت سی بی آئی کی نئی سائبر کرائم برانچ کا افتتاح ہے۔ اب تک سی بی آئی کی مختلف شاخیں سائبر معاملات دیکھ رہی تھیں، لیکن اب ایک علیحدہ اور مخصوص یونٹ صرف ڈیجیٹل جرائم کی تفتیش اور مجرموں کے نیٹ ورک کو توڑنے پر کام کرے گی

سال 2020 میں شمال مشرقی دہلی میں ہوئے فسادات کے دوران ایک مسلم نوجوان کی پولیس تشدد سے ہوئی موت کے معاملے میں عدالت نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے سی بی آئی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ کا نوٹس لیا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے اس کیس میں دہلی پولیس کے دو اہلکاروں کو طلب کرتے ہوئے 24 فروری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

پوچھ گچھ کے دوران سی بی آئی حکام نے مبینہ طور پر کئی اہم سوالات اٹھائے، جن میں یہ شامل تھا کہ کرور پروگرام کا اہتمام کس نے کیا، کیا وجے کو پہلے سے انتظامات کی مکمل جانکاری تھی، ریلی کے جگہ پر تاخیر سے پہنچنے کی وجہ کیا تھی، اور بڑھتی ہوئی بھیڑ کو قابو میں رکھنے کے لیے کوئی اقدامات کیے گئے تھے یا نہیں۔

جانچ کے سلسلے میں 4 دسمبر کو کرور ضلع کے کلکٹر تھنگاویلم کو بھی طلب کیا گیا، جہاں ان سے انتظامی منظوری، مختلف محکموں کے درمیان تال میل اور ریلی کے دن نافذ کیے گئے رسپانس میکانزم کے بارے میں دو گھنٹے سے زائد وقت تک پوچھ گچھ کی گئی۔

کلکی دھام کے پیٹھادھیشور آچاریہ پرمود کرشنم نے صنعت کاروں کے سب سے معتبر ادارے ٹاٹا گروپ سے متعلق سامنے آ رہی بدعنوانی کی خبروں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ صنعتی دنیا کی ‘روح’ ٹاٹا گروپ ہے، لیکن جس طرح بدعنوانی کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ نہایت افسوسناک اور ملک کے لیے تشویشناک ہیں۔

تلاشی کے نتیجے میں قیمتی سامان کے بڑے ذخیرے کی دریافت ہوئی۔ تفتیش کاروں نے تقریباً 5 کروڑ روپے نقد (ابھی تک شمار کیے جا رہے ہیں)، تقریباً 1.5 کلو گرام سونے کے زیورات، اور پنجاب میں متعدد اثاثوں سے منسلک جائیداد سے متعلق دستاویزات ضبط کیں۔

امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ ایک مربوط اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام کے ذریعے ہندوستانی ایجنسیاں اب عالمی سطح پر مفرور افراد کا سراغ لگانے اور انہیں ہندوستان لانے میں اہم رول اداکررہی  ہیں۔

دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 25 سال پرانے دھوکہ دہی اور جعل سازی کے معاملے میں دوایف آئی آردرج کی ہیں۔ سینئرپولیس افسر نیرج کماراوردیگر پرتعزیرات ہند کی کئی سنگین دفعات کے تحت الزام عائد کیا گیا ہے۔

عدالت نے زیریں عدالتوں کو بھی ہدایت دی کہ وہ بغیر ٹھوس وجوہات کے فوجداری انکوائری شروع کرنے کے احکامات نہ دیں۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی اتر پردیش ودھان پریشد سکریٹریٹ کی بھرتی کے معاملے میں سی بی آئی انکوائری کا حکم کالعدم ہو گیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ پولیس حراست میں غیر انسانی واقعات کو روکنے کے لیے سی سی ٹی وی کیمروں کی موجودگی لازمی ہے۔ یہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اب اس معاملے میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔