تریپورہ کی راجدھانی اگرتلہ کے کنجبن علاقے میں واقع سی بی آئی کیمپ آفس میں چوری کی خبریں آئی ہیں۔ اب سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے ان رپورٹوں پر وضاحت کی ہے کہ جس جگہ چوری ہوئی وہ سی بی آئی کا دفتر نہیں تھا، بلکہ ریاستی حکومت کی طرف سے عارضی طور پر فراہم کردہ سرکاری رہائش گاہ تھی۔
سی بی آئی نے باضابطہ وضاحت دی
سی بی آئی نے اپنی سرکاری پریس ریلیز میں کہا، ’’اگرتلہ میں جس جگہ چوری کا واقعہ ہوا وہ سی بی آئی کا مستقل دفتر نہیں تھا،بلکہ یہ ایک عارضی رہائش گاہ تھی جو 2023 میں سی بی آئی کو دی گئی تھی۔ اس رہائش گاہ کا استعمال ان افسران کے قیام کے لیے کیا جاتا تھا، جو چٹ فنڈ گھوٹالے سے متعلق معاملات کی تحقیقات کے لیے آئے تھے۔
کوئی سرکاری دستاویز یا کیس فائل چوری نہیں ہوئی- سی بی آئی
سی بی آئی نے یہ بھی واضح کیا کہ اس احاطے میں سی بی آئی کے کسی کیس سے متعلق کوئی دستاویز، کیس ریکارڈ یا کوئی اہم سرکاری جائیداد نہیں رکھی گئی تھی۔ ایسے میں چوری کی خبریں گمراہ کن ہیں۔
ایجنسی کے مطابق، “نہ تو کوئی سرکاری فائل چوری ہوئی ہے اور نہ ہی کسی کیس سے متعلق کوئی جائیداد۔ اگرتلہ میں سی بی آئی کا اصل دفتر کسی اور جگہ واقع ہے نہ کہ اس سرکاری رہائش گاہ میں۔
فرنیچر چوری، پولیس نے کارروائی کی
سی بی آئی کے مطابق اس سرکاری رہائش گاہ کو کچھ عرصے سے نہ تو دفتر کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا اور نہ ہی کسی افسر کی رہائش کے لیے۔ حال ہی میں یہاں کچھ فرنیچر کی چوری کا واقعہ پیش آیا تھا، جسے ریاستی حکومت کے ذریعہ فراہم کیا گیاتھا۔
اس واقعہ کے حوالے سے مقامی پولیس میں ایف آئی آر درج کرائی گئی۔ پولیس نے کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور کچھ چوری شدہ فرنیچر بھی برآمد کر لیا ہے۔ چونکہ یہ کمپلیکس اب سی بی آئی کے استعمال میں نہیں ہے، اس لیے اسے ریاستی حکومت کو واپس کیا جا رہا ہے۔
سی بی آئی کے اس بیان سے افواہوں کا خاتمہ ہو گیا ہے
اگرتلہ میں چوری کی خبر کے بعد کئی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ سی بی آئی کے اہم دستاویزات چوری ہو گئے ہیں۔ اس پر سی بی آئی کی وضاحت کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ ایسی خبریں غلط ہیں۔ اب ریاستی پولیس معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے اور مزید کارروائی کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




