فائل فوٹو۔
سی بی آئی نے پیر کو دہلی کی ایک عدالت کو مطلع کیا کہ جے این یو کے سابق طالب علم نجیب احمد نے، جو 15 اکتوبر 2016 سے لاپتہ ہیں، ‘اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد’ (اے بی وی پی) سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ایک گروپ کے ذریعہ تشدد کا شکار بنائے جانے کے بعد صفدر جنگ اسپتال میں اپنا علاج کرانے سے انکار کر دیا تھا۔ سی بی آئی نے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ جیوتی مہیشوری کے سامنے اپنی کلوزر رپورٹ اور احمد کی والدہ فاطمہ نفیس کی طرف سے اس کے خلاف دائر کی گئی ایک احتجاجی عرضی پر بحث کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔
مرکزی تحقیقاتی ایجنسی نے کہا کہ اسپتال کے ڈاکٹر اور میڈیکل اٹینڈنٹ کے بیانات اس لیے نہیں لیے گئے کیوں کہ ایسے کاغذات نہیں ہیں جو یہ ثابت کر سکیں کہ نجیب صفدر جنگ اسپتال گیا تھا۔ تاہم تفتیشی افسر (آئی او) نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’اسپتال جانے پر احمد کو ایم ایل سی تیار کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ تاہم وہ اپنے دوست محمد قاسم کے ساتھ ہاسٹل واپس چلا گیا اور اس نے کوئی ایم ایل سی تیار نہیں کرایا۔‘‘ جج نے یہ بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کیس کی سماعت 9 مئی تک ملتوی کر دی اور اس دن تفتیشی افسر کو بھی پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
نجیب کی والدہ کے وکیل نے سی بی آئی پر ’’اپنے آقاؤں کے دباؤ‘‘ میں کام کرنے کا الزام لگایا
واضح رہے کہ سی بی آئی نے اکتوبر 2018 میں اس کیس کی تحقیقات کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے بند کر دیا تھا کہ جے این یو میں ایم اے کے طالب علم نجیب احمد کا پتہ لگانے کی ایجنسی کی کوششوں کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ہے۔ ایجنسی نے دہلی ہائی کورٹ سے اجازت ملنے کے بعد اس معاملے میں عدالت میں اپنی کلوزر رپورٹ داخل کی تھی۔ 15 اکتوبر 2016 کو جے این یو کے ماہی مانڈوی ہاسٹل سے لاپتہ ہونے سے ایک دن پہلے نجیب احمد پر اے بی وی پی سے وابستہ کچھ طلبا نے حملہ کیا تھا۔ نفیس کے وکیل نے عدالت کے سامنے استدلال کیا ہے کہ یہ ایک سیاسی مقدمہ ہے اور ’’سی بی آئی اپنے آقاؤں کے دباؤ کے سامنے جھک گئی ہے۔‘‘ واضح رہے کہ اس کیس کی جانچ پہلے دہلی پولیس نے کی تھی لیکن بعد میں اسے سی بی آئی کو منتقل کر دیا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


