Missing JNU student Najeeb Ahmad Case: جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ کی عرضی پر سماعت آج، سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو کیا گیا ہے چیلنج
جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس سی بی آئی سے مزید تحقیقات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ درخواست کی سماعت جمعہ 19 دسمبر 2025 کودہلی ہائی کورٹ میں ہوگی۔
Case of Najeeb Ahmed closed: جے این یو کے لاپتہ طالب علم نجیب احمد کی والدہ کو نہ بیٹا ملا ، نہ انصاف،دہلی عدالت نے کیس کو بند کرنے کی دی اجازت
نجیب احمد، جو جے این یو میں ایم ایس سی بائیو ٹیکنالوجی کے طالب علم تھے، 15 اکتوبر 2016 کو یونیورسٹی کے ماہی-مانڈوی ہاسٹل سے لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس سے ایک رات قبل ان کا کچھ طلبہ کے ساتھ، جن کا تعلق مبینہ طور پر اکھل بھارتیہ ودیارتی پریشد (اے بی وی پی) سے تھا، جھگڑا ہوا تھا۔
Najeeb Ahmed’s disappearance: جے این یو کے طالب علم نجیب احمد کی گمشدگی پر سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ پر 30 جون کو ہوگا فیصلہ، نجیب کی والدہ نے کیا ہے از سرِ نو تحقیقات کا مطالبہ
دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے جے این یو کے سابق طالب علم نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس کی عرضی پر فیصلہ سنائے گی۔
Missing JNU student Najeeb Ahmed: جے این یو کے گمشدہ طالب علم نجیب احمد نے اے بی وی پی کے حملے کا شکار ہونے کے بعد اسپتال میں اپنا علاج نہیں کروایا تھا، سی بی آئی نے عدالت میں کیا دعویٰ
سی بی آئی نے ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ جیوتی مہیشوری کے سامنے اپنی کلوزر رپورٹ اور احمد کی والدہ فاطمہ نفیس کی طرف سے اس کے خلاف دائر کی گئی ایک احتجاجی عرضی پر بحث کرتے ہوئے یہ بات کہی ہے۔





