راؤز ایونیو کورٹ جے این یو کے طالب علم نجیب احمد کی گمشدگی کے معاملے میں سی بی آئی کی طرف سے داخل کی گئی کلوزر رپورٹ کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کے بارے میں 30 جون کو اپنا فیصلہ سنائے گی۔ راؤز ایونیو کورٹ کے ایڈیشنل جوڈیشل مجسٹریٹ جیوتی مہیشوری نے یہ حکم دیا ہے۔ دہلی کی راؤز ایونیو کورٹ نے جے این یو کے سابق طالب علم نجیب احمد کی والدہ فاطمہ نفیس کی عرضی پر فیصلہ سنائے گی۔
واضح رہے کہ نجیب احمد 2016 میں پراسرار حالات میں لاپتہ ہو گیا تھا۔ ان کی والدہ فاطمہ نفیس نے اس معاملے میں سی بی آئی کی کلوزر رپورٹ کو چیلنج کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ سی بی آئی کو نجیب کے لاپتہ ہونے سے اے بی وی پی کے ارکان کے تعلق کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے اور سی بی آئی نجیب کا پتہ لگانے میں بھی ناکام رہی ہے۔
نجیب کی والدہ نے کیا ہے از سرِ نو تحقیقات کا مطالبہ
نجیب کی والدہ کی جانب دے داخل کی گئی عرضی میں اس معاملے کی نئی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ نجیب احمد جے این یو ہاسٹل میں اے بی وی پی کے طلباء کے ساتھ جھگڑے کے بعد غائب ہوا تھا۔ کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے سی بی آئی سے پوچھا کہ نجیب کو لاپتہ ہونے سے پہلے آخری بار کہاں دیکھا گیا تھا۔ سی بی آئی کا دعویٰ ہے کہ نجیب 15 اکتوبر 2016 کو لاپتہ ہونے سے پہلے صفدر جنگ اسپتال گیا تھا، لیکن وہاں اس کا ایم ایل سی ٹیسٹ نہیں ہوا تھا۔
سی بی آئی نے عدالت کو بتایا کہ اسپتال کے ڈاکٹر اور طبی معاون کے بیان اس لیے نہیں لیے گئے کیوں کہ یہ ثابت کرنے کے لیے بھی کوئی دستاویز دستیاب نہیں ہے کہ احمد اسپتال گیا تھا۔ واضح رہے کہ اس کیس کی جانچ پہلے دہلی پولیس کے پاس تھی لیکن 2017 میں ہائی کورٹ کے حکم پر اسے سی بی آئی کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
2018 میں سی بی آئی نے نجیب کو تلاش کرنے میں ناکامی کے بعد ایک کلوزر رپورٹ داخل کی۔ تاہم نجیب کی والدہ فاطمہ کا الزام ہے کہ اے بی وی پی کے اراکین کو بچانے کے لیے سیکورٹی ایجنسیاں خاموش ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نجیب کے لاپتہ ہونے سے ایک رات پہلے اے بی وی پی کے اراکین اسے مارا پیٹا تھا۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

