سوچئے، آنے والے برسوں میں گرمی اتنی شدید ہوجائے کہ لوگوں کے لیے گھروں سے باہر نکلنا، کھیتوں میں کام کرنا اور حتیٰ کہ پانی کا انتظام کرنا بھی مشکل ہوجائے۔ گرمی کا دورانیہ بڑھ جائے، بارش کا موسم بے ترتیب ہوجائے اور موسم کب کروٹ لے، اس کا اندازہ لگانا مشکل ہوجائے۔ سائنسدانوں کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے حالات کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ اس کی بڑی وجوہات میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ یعنی CO2 کی بڑھتی مقدار شامل ہے۔ CO2 ایک گرین ہاؤس گیس ہے، جو زمین سے خارج ہونے والی حرارت کو فضا میں روکنے کا کام کرتی ہے۔ ایک مخصوص مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں زمین پر زندگی کے لیے ضروری ہیں، لیکن ان کی مقدار ضرورت سے زیادہ بڑھنے سے زمین کا درجہ حرارت بھی بڑھتا ہے۔
عام آدمی کی زندگی پر کیا اثر پڑے گا؟
CO2 کی بڑھتی سطح صرف درجہ حرارت کے اعداد و شمار کو متاثر نہیں کرتی بلکہ اس گرمی پر بھی اثر ڈالتی ہے جسے انسان اپنے جسم پر محسوس کرتا ہے۔ درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ پانی کی طلب میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ دوسری جانب گلیشیئرز اور برف تیزی سے پگھلنے سے طویل مدت میں دریاؤں اور آبی ذخائر پر اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کا براہِ راست تعلق پینے کے پانی، زراعت اور شہروں کی پانی کی ضروریات سے ہے۔ کسانوں کے لیے بھی بدلتا موسم ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ درجہ حرارت میں تبدیلی، بارش کے اوقات میں فرق، طویل خشک سالی یا اچانک شدید بارش فصلوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس کا اثر آگے چل کر کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔
1750 کے مقابلے CO2 میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ
سائنسی ریکارڈ کے مطابق صنعتی انقلاب کے آغاز کے بعد سے فضا میں CO2 کی مقدار میں 50 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ سائنسدانوں نے اس اضافے کو بنیادی طور پر کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے جوڑا ہے۔ ہوائی میں واقع مونا لوا آبزرویٹری میں 1958 سے CO2 کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ان اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ ہر سال CO2 کی اوسط سطح میں اضافہ ہورہا ہے۔ سیٹلائٹ سے کی جانے والی پیمائشیں بھی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار کی نشاندہی کرتی ہیں۔
سال بھر CO2 کی سطح میں اتار چڑھاؤ کیوں ہوتا ہے؟
CO2 کی مقدار پورے سال ایک جیسی نہیں رہتی۔ اس میں درختوں اور پودوں کا بھی اہم کردار ہے۔ شمالی نصف کرہ میں موسم بہار اور گرمیوں کے دوران پودے تیزی سے بڑھتے ہیں اور فضا سے CO2 جذب کرتے ہیں، جس سے ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کچھ کم ہوجاتی ہے۔ اس کے برعکس خزاں اور سردیوں میں پودوں کی نشوونما سست پڑ جاتی ہے۔ سوکھے پتے اور پودوں کے دیگر حصے جب گلتے سڑتے ہیں تو ان میں موجود کاربن کا کچھ حصہ دوبارہ CO2 کی شکل میں فضا میں شامل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ CO2 کے اعداد و شمار میں ہر سال ایک مخصوص اتار چڑھاؤ نظر آتا ہے۔
کہیں شدید خشک سالی، تو کہیں موسلا دھار بارش
اس سالانہ اتار چڑھاؤ کے درمیان سائنسدانوں کی بڑی تشویش یہ ہے کہ زمین پر CO2 کی اوسط سطح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اس کے اثرات دنیا کے مختلف علاقوں میں بدلتے موسمی حالات کی صورت میں دیکھے جارہے ہیں۔ کہیں شدید خشک سالی کا سامنا ہے تو کہیں غیر معمولی بارش اور سیلاب جیسے حالات پیدا ہورہے ہیں۔ بڑھتی CO2 کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس کے اثرات ایک یا دو سال میں ختم نہیں ہوتے۔ فضا میں جمع گرین ہاؤس گیسیں طویل عرصے تک موسمیاتی نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔ یعنی آج ہونے والا کاربن اخراج آنے والے برسوں کے موسم اور ماحول پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



