Bharat Express DD Free Dish

Climate change

فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے وقت میں انسانی زندگی پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ گزشتہ تقریباً 100 برسوں میں ماحول میں CO2 کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیول کا مسلسل استعمال ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے نشیبی ڈیلٹا علاقوں اور ہندوستان کے کولکاتا و ممبئی، جبکہ بنگلہ دیش کے ڈھاکہ جیسے شہروں میں اس بحران کا سب سے بڑا اثر لوگوں کی نقل مکانی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ ان علاقوں میں 1.4 کروڑ سے زائد افراد کے گھروں کے مستقل طور پر پانی میں ڈوب جانے کا خطرہ ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ صورتحال کس مخصوص مدت میں پیدا ہو سکتی ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ حکومت ال نینو کے باعث معمول سے کم بارش اور بعض علاقوں میں ممکنہ خشک سالی کی صورتِ حال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے وزارت زراعت اور دیگر متعلقہ وزارتوں کو ہدایت دی کہ وہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھیں اور کسانوں کو موسمی حالات کے مطابق مناسب فصلوں کی بوائی کے بارے میں بروقت مشورے فراہم کریں۔

سائنسدانوں کے مطابق اس تیز رفتار تبدیلی کی سب سے بڑی وجہ گرین ہاؤس اثر ہے۔ انسانی سرگرمیاں جیسے کوئلہ، پٹرول اور ڈیزل کا زیادہ استعمال، صنعتوں کا پھیلاؤ اور جنگلات کی کٹائی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ اور میتھین جیسی گیسوں کو بڑھا رہی ہیں۔

ورلڈ میٹیرولوجیکل آرگنائزیشن کی جانب سے جاری کردہ "یورپی اسٹیٹ آف دی کلائمٹ 2025" رپورٹ پیش کرتے ہوئے سیکریٹری جنرل سیلسٹے ساؤلو نے کہا کہ 1980 کے بعد سے یورپ عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنی رفتار سے گرم ہوا ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ یورپ کو زمین کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا خطہ قرار دیا جا رہا ہے۔

سپریہ ساہو، جو حکومت تمل ناڈو میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری ہیں، کو اقوامِ متحدہ کے ماحولیات پروگرام (UNEP) کی جانب سے 2025 کے ’چیمپئنز آف دی ارتھ‘ میں شامل کیے جانے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

ماحولیاتی تبدیلی کے باعث سمندر کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، جس کی وجہ سے سمندر میں موجود سمندری گھاس کے میدان مسلسل تباہ ہو رہے ہیں۔ اگر اس معاملے میں مضبوط اور فوری اقدامات نہ کیے گئے تو 2050 تک کچھ اقسام کی سمندری گھاس ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔

اس سال ملک میں شدید سردی پڑنے کا امکان ہے، اور اس کی بڑی وجہ ہے ’’لا نینا‘‘  کا اثر۔ موسمی ماہرین نے خاص طور پر شمالی ہند میں شدید سرد ہواؤں اور زیادہ برفباری کی پیش گوئی کی ہے۔

کلائمیٹ سمٹ 2025 کے شریک آرگنائزر ارہن بگاتی کا کہنا ہے کہ کھیلوں کے لیے ایسی پالیسیاں اور ہنگامی پروٹوکول ہونا چاہیے جو کھلاڑیوں، عملے، کوچز، شائقین، رضاکاروں کو غیر محفوظ حالات جیسے ہیٹ ویو، زیادہ درجہ حرارت، حد سے زیادہ گرمی یا جنگل کی آگ کے دھوئیں سے محفوظ رکھیں۔

اس سے بجلی کی پیداوار کی لاگت میں 0.25 روپے سے 0.30 روپے فی یونٹ تک کمی آئے گی۔ اس سے عام صارفین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا اور ساتھ ہی مالی بحران کا شکار بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بھی ریلیف ملے گا۔