Bharat Express DD Free Dish

climate crisis

فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی بڑھتی مقدار موسم، گرمی، پانی، زراعت اور آنے والے وقت میں انسانی زندگی پر براہِ راست اثر ڈال رہی ہے۔ گزشتہ تقریباً 100 برسوں میں ماحول میں CO2 کی مقدار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی بڑی وجہ کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے فوسل فیول کا مسلسل استعمال ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا کے نشیبی ڈیلٹا علاقوں اور ہندوستان کے کولکاتا و ممبئی، جبکہ بنگلہ دیش کے ڈھاکہ جیسے شہروں میں اس بحران کا سب سے بڑا اثر لوگوں کی نقل مکانی کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے۔ ان علاقوں میں 1.4 کروڑ سے زائد افراد کے گھروں کے مستقل طور پر پانی میں ڈوب جانے کا خطرہ ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ صورتحال کس مخصوص مدت میں پیدا ہو سکتی ہے۔

ینیڈا کو حالیہ برسوں میں جنگلات کی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرناک موسم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا ہے اور کینیڈا کے ساتھ ساتھ امریکہ کے بڑے حصوں میں بار بار دھواں پھیلتا رہا ہے۔

ماہرین نے اس انکشاف کو موسمیاتی تبدیلی کا ایک سنگین اشارہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، اگر یہی رجحان جاری رہا تو آئس لینڈ جیسا سرد ملک بھی آنے والے برسوں میں اپنی منفرد برفیلی شناخت کھو سکتا ہے۔

نائب صدرجمہوریہ ہند  جگدیپ دھنکھڑ نے  عالمی خطہ جنوب  کی ترقی کو آگے بڑھانے میں ہندوستان کی جامع تکسیریت کے نقطہ نظر کو اُجاگر کیا۔ انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ‘‘ہندوستان کا عروج،  درخشاں جمہوریت اور عالمی استحکام اور امن کو فروغ دے گا۔

فلبرائٹ۔ نہروفیلو مانسی بال بھارگو کو بگڑے ہوئے ماحولیاتی نظام کو اپنا توازن بحال کرنے میں مدد کرنے میں ان کی سرگرمیوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایک کاروباری پیشہ ور ، محقق، معلّم اور اتالیق کی حیثیت سے بھارگو کو آبی وسائل میں کمی اور پانی کی بڑھتی ہوئی پریشانی کے بارے میں گہری تشویش سے ترغیب ملتی ہے۔

موسمیاتی تبدیلی دنیا کے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ عالمی اقتصادی آؤٹ لک 2022 نے تخمینہ لگایا ہے کہ تقریباً 4 ٹریلین امریکی ڈالر کےبقدر سرمایہ سالانہ طور پر 2030 تک قابل احیاء توانائی میں لگایا جانا چاہئے تاکہ ممالک کے ذریعہ اعلان کردہ خالص صفر اخراج تک پہنچا سکے۔

اس روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، ہمارے پنچایتی راج ادارے دیہی برادریوں کو شجرکاری مہم، فضلہ کے انتظام اور آبی وسائل کے تحفظ کے ساتھ ساتھ قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کو فروغ دینے جیسی سرگرمیوں میں شامل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں