روس میں 18 سے 20 ستمبر تک اسٹیٹ ڈوما کی 450 نشستوں کے لیے انتخابات ہو رہے ہیں۔ یہ انتخابات اس لیے اہم ہیں کہ فروری 2022 میں یوکرین پر مکمل حملے کے بعد یہ پہلا پارلیمانی انتخاب ہے۔ اسی وجہ سے اسے صرف ارکانِ پارلیمنٹ منتخب کرنے کے عمل کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا، بلکہ روس کی داخلی سیاست، یوکرین جنگ اور صدر ولادیمیر پوتن کی حکمرانی کے تناظر میں بھی اس پر نظر ہے۔
ڈوما کی ساخت اور ووٹنگ
روس کی اسٹیٹ ڈوما میں کل 450 نشستیں ہیں۔ ان میں سے 225 ارکان جماعتوں کی فہرست کے ذریعے اور باقی 225 ارکان انتخابی حلقوں سے منتخب کیے جاتے ہیں۔ ارکان کی مدت پانچ سال ہوتی ہے۔ اس بار تقریباً 11.1 کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ کئی علاقوں میں الیکٹرانک ووٹنگ کی سہولت بھی دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 11 علاقوں میں گورنروں اور 39 علاقوں میں علاقائی اسمبلیوں کے انتخابات بھی ہو رہے ہیں۔
یونائیٹڈ رشیا کا غلبہ
حکمراں جماعت یونائیٹڈ رشیا 2001 میں قائم ہوئی تھی اور اس کے بعد سے پوتن کی سیاست میں اہم کردار ادا کرتی رہی ہے۔ 2021 کے انتخابات کے بعد اس کے پاس 326 نشستیں تھیں۔ 2021 میں اس نے پارٹی فہرست کے ووٹوں میں تقریباً 49.8 فیصد حاصل کیے تھے اور مجموعی طور پر ایوان میں اکثریت برقرار رکھی تھی۔ اس بار جماعت کی انتخابی فہرست میں وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین جیسے بڑے نام بھی شامل ہیں۔
اپوزیشن جماعتوں کی صورتحال
یونائیٹڈ رشیا کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی آف دی رشین فیڈریشن طویل عرصے سے پارلیمنٹ کی بڑی سیاسی قوتوں میں شامل رہی ہے۔ اس کے علاوہ ایل ڈی پی آر، اے جسٹ رشیا اور نیو پیپل پارٹی بھی انتخابی میدان میں ہیں۔نیو پیپل پارٹی خود کو نسبتاً نوجوان اور ٹیکنالوجی سے وابستہ ووٹروں کے قریب پیش کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ کمیونسٹ پارٹی کے رہنما گیناڈی زیوگانوف حکومت کی بعض پالیسیوں پر تنقید کرتے رہے ہیں۔
یابلکو پارٹی پر تنازع
اس انتخاب میں یابلکو پارٹی بھی خاص طور پر زیرِ بحث رہی ہے۔ یہ روس کی ان جماعتوں میں شامل رہی ہے جو یوکرین جنگ کی مخالفت کرتی ہیں۔ اگست میں روسی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یابلکو کو قومی پارٹی فہرست سے باہر کر دیا گیا، تاہم اس کے کچھ امیدوار انفرادی انتخابی حلقوں سے الیکشن لڑ رہے ہیں۔
اس فیصلے نے روس میں جنگ مخالف سیاست اور اپوزیشن کے لیے انتخابی میدان کی صورتحال پر بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں بھی ووٹنگ
اس بار روس نے یوکرین کے ان علاقوں میں بھی پارلیمانی انتخابات کرائے ہیں جن پر اس کا قبضہ ہے۔ ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریژیا کے روس کے زیر قبضہ علاقوں میں ووٹنگ کا انتظام کیا گیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ان علاقوں میں ابتدائی ووٹنگ سمیت خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ یوکرین اور یورپی یونین نے ان علاقوں میں روسی انتخابات کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں ووٹنگ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔
انتخاب میں اصل سوال کیا ہے؟
اس بار توجہ صرف اس بات پر نہیں ہے کہ یونائیٹڈ رشیا پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھتی ہے یا نہیں، بلکہ ووٹوں اور نشستوں کے تناسب پر بھی ہے۔ 2021 کے انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب 51.7 فیصد رہا تھا۔ اس بار جنگ کے اخراجات، اقتصادی دباؤ، ایندھن کی قلت اور روس کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال بھی انتخابی ماحول کا حصہ ہیں۔ انتخابات کے دوران روسی حکام نے آن لائن ووٹنگ نظام پر سائبر حملوں کی اطلاعات بھی دی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔ مجموعی طور پر 2026 کا یہ انتخاب صرف ارکانِ پارلیمنٹ منتخب کرنے کا عمل نہیں ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کی ساخت، حکمراں جماعت کی پوزیشن، جنگ سے متعلق سیاسی ماحول، اقتصادی دباؤ، اپوزیشن کی صورتحال اور مقبوضہ یوکرینی علاقوں میں ووٹنگ جیسے کئی اہم پہلو شامل ہیں۔ ووٹنگ 20 ستمبر کو مکمل ہو رہی ہے، جس کے بعد نتائج سے روسی پارلیمنٹ کی نئی تصویر واضح ہوگی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



