Bharat Express DD Free Dish

KP Sharma Oli

رپورٹ کے مطابق 9 ستمبر 2025 کو ہونے والی توڑ پھوڑ اور آتشزدگی کے بعد کھڑکا، سابق وزیر اعظم شیر بہادر دیوبا اور پشپ کمل دہل کے گھروں سے جلے ہوئے کرنسی نوٹوں کے ٹکڑوں کی تصاویر اور ویڈیوز سامنے آئی تھیں۔ بعد ازاں فارنزک لیب ٹیسٹ میں ان شواہد کی تصدیق بھی ہوئی تھی۔

یہ پہلا موقع ہے جب نیپال کی تاریخ میں کسی چیف ایگزیکٹو کو قتل کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پہلے سابق وزرائے اعظم کو عموماً تحقیقات کے لیے یا محدود نگرانی میں رکھا جاتا تھا، لیکن سیاسی مظاہروں اور احتجاجی واقعات میں وہ پولیس کی نگرانی میں رہ چکے ہیں

بدھ کی صبح کٹھمنڈو میں سڑکیں تقریباً سنسان نظر آئیں۔لوگ گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کر رہے ہیں۔شہر بھر میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔آئی اے این ایس کی رپورٹ کے مطابق پرتشدد جھڑپوں میں اب تک کم از کم 22 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جب کہ 500 سے زائد افراد زخمی ہیں۔

کے پی شرما او لی پہلی بار 2015 میں وزیراعظم بنے تھے۔ وہ اکتوبر 2015 سے اگست 2016 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ بعد ازاں اکثریت کھو دینے پر استعفیٰ دینا پڑا۔

آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے فون پر رابطہ کیا اور حملے کو "سفاکانہ" قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق البانیز نے بھارتی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

نیپال کے نئے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو مبارکباد دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پر لکھا، 'نیپال کے وزیر اعظم کے طور پر آپ کی تقرری پر مبارکباد۔

1952 میں پیدا ہونے والے اولی نے 12 سال کی عمر میں سیاست میں قدم رکھا۔ وہ مارکس اور لینن سے متاثر ہوئے اور کمیونسٹ سیاست میں چلے گئے۔ 14 سال جیل میں بھی رہے۔ بعد میں نیپال کی کمیونسٹ پارٹی بنائی۔

اس وقت پشپ کمال اور شیر بہادر کے لیڈروں کے درمیان کچھ رسہ کشی چل رہی تھی۔ جس کی وجہ سے 15 ماہ پرانا اتحاد ٹوٹ گیا ہے۔ اس کے علاوہ پرانے اتحاد کے ٹوٹنے میں چین کی مداخلت کی بھی بات بھی سامنے آرہی ہے۔