Bharat Express DD Free Dish

Nepal Withdraws Social Media Bill: نیپال میں سوشل میڈیا پر پابندی سے متعلق مجوزہ بل واپس، قومی اسمبلی کا متفقہ فیصلہ

نیپال میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق مجوزہ بل کو بالآخر واپس لے لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی نے سوشل نیٹ ورکس کے استعمال اور ان کے نظم و نسق سے متعلق پیش کیے گئے اس بل کو متفقہ طور پر واپس لینے کی منظوری دے دی۔

کٹھمنڈو: نیپال میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق مجوزہ بل کو بالآخر واپس لے لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی نے سوشل نیٹ ورکس کے استعمال اور ان کے نظم و نسق سے متعلق پیش کیے گئے اس بل کو متفقہ طور پر واپس لینے کی منظوری دے دی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا کے کئی ممالک، بالخصوص آسٹریلیا، کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر سخت قوانین نافذ کر رہے ہیں اور دیگر ریاستیں بھی اسی طرز کے اقدامات پر غور کر رہی ہیں۔ نیپالی میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کے چیئرمین نارائن دہل نے ایوان میں بل واپس لینے کی تجویز پیش کی، جسے تمام اراکین نے اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا۔ بعد ازاں چیئرمین نے ایوان کو بتایا کہ بل کو مکمل مشاورت اور وسیع بحث کے بعد واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ عوامی خدشات اور جمہوری اقدار کا احترام برقرار رکھا جا سکے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس بل سے متعلق قانون سازی مینجمنٹ کمیٹی کی چیئرپرسن تلسا کماری دہل نے پہلے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کمیٹی کی رپورٹ پیش کی تھی۔ کمیٹی کے اجلاس کے دوران قومی اسمبلی کے 35 اراکین نے مجموعی طور پر 155 ترامیمی تجاویز جمع کرائی تھیں، جن میں آزادیِ اظہار، ڈیجیٹل حقوق اور نوجوانوں کی شمولیت جیسے نکات شامل تھے۔ ان ترامیم نے بل کو مزید متنازع بنا دیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق مواصلات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت نے 3 فروری کو ہی بل واپس لینے کا فیصلہ کر لیا تھا اور اس حوالے سے باضابطہ طور پر پارلیمنٹ سے اپیل بھی کی گئی تھی۔ وزارت کا مؤقف تھا کہ موجودہ صورتِ حال میں بل پر مزید غور اور اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے۔

یاد رہے کہ نیپال میں 2025 کے دوران سوشل میڈیا پر پابندی کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی تھی، جس کے نتیجے میں جین زی تحریک نے جنم لیا۔ نوجوانوں نے سوشل میڈیا تک رسائی کو بنیادی حق قرار دیتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا تھا، جس نے حکومت کو دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔ دوسری جانب آسٹریلیا دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مکمل پابندی نافذ کی۔ اس فیصلے کے بعد وہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر کم عمر صارفین کے اکاؤنٹس تیزی سے ختم کیے گئے۔ یورو نیوز کے مطابق صرف ایک ماہ کے اندر سوشل میڈیا کمپنیوں نے نابالغوں کے تقریباً پچاس لاکھ اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے۔ آسٹریلیا کے انٹرنیٹ ریگولیٹر نے بتایا کہ 10 دسمبر سے نافذ ہونے والے قانون پر عمل درآمد کے لیے پلیٹ فارمز نے 16 سال سے کم عمر افراد کے تقریباً 4.7 ملین اکاؤنٹس ہٹا دیے ہیں۔ ای سیفٹی کمشنر جولی ان مین گرانٹ نے جاری کردہ ڈیٹا کو ایک مثبت ابتدائی اشارہ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل تحفظ سے متعلق ریگولیٹری رہنمائی اور پلیٹ فارمز کے ساتھ قریبی تعاون کے نتیجے میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار کمپلائنس سے متعلق پہلا سرکاری ڈیٹا ہیں، جو ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکنالوجی کمپنیاں قوانین پر عمل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہیں۔ آسٹریلیا کے علاوہ آئرلینڈ، ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک بھی کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ نوردک ممالک نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ 15 سال سے کم عمر افراد کے لیے سوشل میڈیا ایکسیس بلاک کرنے سے متعلق معاہدہ کیا گیا ہے، جسے 2026 کے وسط تک قانون کی شکل دی جا سکتی ہے۔ نیپال میں بل کی واپسی کو ان عالمی مباحث کے تناظر میں ایک اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read