Bharat Express DD Free Dish

Breaking Nepal News

سیلاب نے نیپال کے کئی قصبوں اور دیہات کو متاثر کیا، اہم پل بہا دیے اور تقریباً ایک درجن ہائیڈرو پاور منصوبوں کو نقصان پہنچایا۔ چتوان ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں 64 لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

ماہرین اس وقت سیلاب کے مختلف ممکنہ اسباب کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ایک امکان برفانی تودے کا ہے، جبکہ دوسرا خدشہ لینڈ سلائیڈنگ کے باعث عارضی باندھ بننے کا ہے۔ آئی سی آئی ایم او ڈی کے ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن ماہر شاشوت سانیال نے کہا کہ لینڈے کھولا میں 14 ماہ کے اندر دو مرتبہ سیلاب آیا ہے۔ ان کے مطابق اس بار ممکنہ طور پر برفانی تودے نے دریا کا بہاؤ روکا اور اس کے بعد پانی اچانک تیزی سے نیچے آیا، تاہم اس کی حتمی تصدیق ابھی باقی ہے۔

نیپالی حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں ڈالڈا، مشروبات، گوشت، مچھلی، اچار اور ادویات سمیت کئی روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بھارت سے خرید کر ان اشیاء کو نیپال میں فروخت کرنا اب ممنوع ہوگا۔

حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں سات سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔

نیپال کے وسطی ضلع دھادنگ میں پیر کی علی الصبح ایک ہولناک سڑک حادثہ پیش آیا جب مسافروں سے بھری ایک بس تریشولی ندی میں جا گری، جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ یہ بس مغربی شہر پوکھرا سے دارالحکومت کٹھمنڈو جا رہی تھی۔

نیپال میں سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے سے متعلق مجوزہ بل کو بالآخر واپس لے لیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی نے سوشل نیٹ ورکس کے استعمال اور ان کے نظم و نسق سے متعلق پیش کیے گئے اس بل کو متفقہ طور پر واپس لینے کی منظوری دے دی۔

نیپال میں آئندہ عام انتخابات سے پہلے ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد نے ملک کے امن و امان کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات سے محض چند ہفتے قبل بھارتی سرحد سے متصل علاقوں میں بھڑک اٹھنے والے فسادات نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ خطے کی سلامتی سے وابستہ اداروں کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔

تنازع اس وقت شروع ہوا جب دھنوشا ضلع کے جنک پور میں دو نوجوانوں، حیدر انصاری اور امانت انصاری نے ایک ویڈیو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی، جس کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ بعد ازاں مشتعل افراد نے دونوں نوجوانوں کو پولیس کے حوالے کر دیا۔