نیپال کے ضلع پرسا کے ضلع انتظامیہ دفتر (DAO) نے ٹک ٹاک پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو کے بعد پیدا ہونے والی مذہبی کشیدگی کے پیش نظر بیرگنج شہر میں نافذ کرفیو میں توسیع کر دی ہے۔ مقامی انتظامیہ نے پیر کی دوپہر ضلع کے کچھ حصوں میں دفعہ 144 نافذ کی تھی، تاہم پابندی کے باوجود دونوں فریقوں نے بیک وقت احتجاج کیا، جس کے بعد حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے مکمل کرفیو نافذ کرنا پڑا۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن آفس، پرسا نے پیر کی شام 6 بجے سے منگل کی صبح 8 بجے تک کرفیو نافذ کیا تھا۔ صورتحال بدستور بے قابو رہنے اور خطرات کے پیش نظر کرفیو کو منگل کی دوپہر 1 بجے تک بڑھا دیا گیا ہے۔
کرفیو سے متعلق سرکاری حکم
تازہ حکم نامے میں کہا گیا ہے: ’’مورخہ 2082.09.21 (5 جنوری 2026) کو شام 6 بجے سے 2082.09.22 (6 جنوری 2026) صبح 8 بجے تک نافذ کرفیو کو تازہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر مقامی انتظامیہ ایکٹ 2028 کی دفعہ 6(الف) کے تحت بیرگنج میٹروپولیٹن سٹی کے چار مخصوص علاقوں میں آج دوپہر 1 بجے تک توسیع دی جاتی ہے۔ اس دوران کسی بھی شخص کو ان حدود میں نقل و حرکت، اجتماع، جلوس، مظاہرہ یا میٹنگ کی اجازت نہیں ہوگی۔‘‘ انتظامیہ نے بیرگنج شہر میں چار سرحدی مقامات مقرر کیے ہیں:
بس پارک، ناگوا، اناروا (مشرق)
سرسیا ندی (مغرب)
گنڈک چوک (شمال)
شنکر آچاریہ گیٹ (جنوب)
سخت وارننگ جاری
انتظامیہ نے عوام کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے: ’’کرفیو کے دوران سیکورٹی اہلکاروں کو موقع پر فائرنگ کا اختیار حاصل ہوگا، اس لیے شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ انتہائی ضروری کام کے علاوہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اگر باہر نکلنا ناگزیر ہو تو قریبی سکیورٹی اہلکار سے رابطہ کریں یا 100 پر کال کریں۔‘‘
ضروری خدمات کو چھوٹ
انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ کرفیو کے دوران ضروری خدمات کی گاڑیاں، ایمبولینس، فائر بریگیڈ، میت گاڑیاں، صحت کارکنوں کی گاڑیاں، میڈیا اہلکار، سیاحوں کی گاڑیاں، انسانی حقوق اور سفارتی مشنز کی گاڑیاں، ہوائی ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کی گاڑیوں کو سکیورٹی نگرانی میں نقل و حرکت کی اجازت دی جائے گی۔
کشیدگی کیوں ہوئی؟
اتوار سے ہی بیرگنج میں، جو بھارتی ریاست بہار کے قریب واقع ہے، کشیدگی برقرار ہے۔ تنازع اس وقت شروع ہوا جب دھنوشا ضلع کے جنک پور میں دو نوجوانوں، حیدر انصاری اور امانت انصاری نے ایک ویڈیو ٹک ٹاک پر اپ لوڈ کی، جس کے بارے میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے۔ بعد ازاں مشتعل افراد نے دونوں نوجوانوں کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اسی دوران کمالا میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 6 میں ایک مسجد کی توڑ پھوڑ کے بعد حالات مزید خراب ہو گئے۔ احتجاج کے طور پر مظاہرین نے بیرگنج اور اطرافی علاقوں میں ریلیاں نکالیں، ٹائر جلائے اور نعرے بازی کی، جس سے صورتحال سنگین ہو گئی۔ انتظامیہ کے مطابق، دھنوشا اور پرسا سے شروع ہونے والا یہ تنازع سوشل میڈیا، خاص طور پر ٹک ٹاک کے ذریعے پھیلتا چلا گیا اور مذہبی و فرقہ وارانہ جذبات کے باعث دونوں فریق سڑکوں پر آ گئے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


