Bharat Express DD Free Dish

Nepal Flash Floods:نیپال کے تباہ کن سیلاب کے بعد انفوسس پبلک سروسز کے سربراہ لکش گوپی سیٹی سے رابطہ منقطع

انفوسس کے مطابق، گوپی سیٹی نیپال کے دورے پر کسی سرکاری یا کاروباری کام کے سلسلے میں نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں گئے تھے۔ سیلاب کے بعد ان سے رابطہ نہ ہونے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد کمپنی کی فوری ترجیح ان کی سلامتی اور خیریت کا پتہ لگانا ہے۔ کمپنی نے ان کے اہل خانہ سے بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھنے اور اس مشکل وقت میں ضروری تعاون فراہم کرنے کی بات کہی ہے۔

نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد انفوسس پبلک سروسز کے سربراہ لکش گوپی سیٹی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔ انفوسس نے جمعہ کو ایک بیان جاری کرکے بتایا کہ کمپنی کی ذیلی اکائی انفوسس پبلک سروسز کے چیف لکش گوپی سیٹی نیپال میں شدید سیلاب کے بعد فی الحال قابلِ رابطہ نہیں ہیں۔ کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ نیپال کے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور ان سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انفوسس کے مطابق، گوپی سیٹی نیپال کے دورے پر کسی سرکاری یا کاروباری کام کے سلسلے میں نہیں بلکہ ذاتی حیثیت میں گئے تھے۔ سیلاب کے بعد ان سے رابطہ نہ ہونے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد کمپنی کی فوری ترجیح ان کی سلامتی اور خیریت کا پتہ لگانا ہے۔ کمپنی نے ان کے اہل خانہ سے بھی مسلسل رابطہ برقرار رکھنے اور اس مشکل وقت میں ضروری تعاون فراہم کرنے کی بات کہی ہے۔

انفوسس متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ دستیاب معلومات جمع کرنے اور گوپی سیٹی سے دوبارہ رابطہ قائم کرنے کے لیے متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ کام کررہی ہے۔ موجودہ صورتحال میں کمپنی کی توجہ ان کی حفاظت اور خیریت پر مرکوز ہے۔ یہ معاملہ نیپال میں جاری ایک بڑے قدرتی بحران کے درمیان سامنے آیا ہے۔ حالیہ تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے کئی علاقوں میں مواصلاتی نظام، سڑکوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے، جس کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں سے رابطہ قائم کرنا اور امدادی کارروائیاں انجام دینا مشکل ہورہا ہے۔

نیپال میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری

نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے شدید سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں پھنسے افراد کو تلاش کرنے اور محفوظ مقامات تک پہنچانے میں مصروف ہیں۔ ریسکیو کارروائیوں میں سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہیلی کاپٹروں اور دیگر ذرائع کا بھی استعمال کیا جارہا ہے، تاہم خراب موسم، ملبے اور مواصلاتی مشکلات کی وجہ سے امدادی کاموں کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس قدرتی آفت میں غیر ملکی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں اور متعدد افراد سے رابطہ قائم نہیں ہوپایا ہے۔ بھارتی شہریوں سمیت کئی ممالک کے باشندوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاعات کے بعد متعلقہ حکومتیں اپنے شہریوں کی معلومات حاصل کرنے اور ان کی مدد کے لیے نیپال کے حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

کون ہیں لکش گوپی سیٹی؟

لکش گوپی سیٹی انفوسس پبلک سروسز کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ہیں۔ یہ انفوسس کی ذیلی کمپنی ہے جو بنیادی طور پر امریکہ اور کینیڈا کے سرکاری شعبے کے اداروں کے ساتھ کام کرتی ہے۔ گوپی سیٹی اس ادارے میں حکمت عملی، ٹیکنالوجی، آپریشنز اور تبدیلی سے متعلق امور کی نگرانی کرتے ہیں۔ انفوسس پبلک سروسز کے سربراہ بننے سے قبل وہ انفوسس میں گلوبل وائس پریزیڈنٹ کے عہدے پر بھی کام کرچکے ہیں۔ ان کے پیشہ ورانہ تجربے میں سرکاری شعبے، صحت، مالیاتی خدمات، مینوفیکچرنگ، تعلیم اور دیگر شعبے شامل ہیں۔ انہوں نے ایکسنچر، آئی بی ایم، پی ڈبلیو سی اور ایچ سی ایل سمیت متعدد بڑی کمپنیوں میں بھی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔

فی الحال موت کی کوئی تصدیق نہیں

اہم بات یہ ہے کہ انفوسس نے صرف یہ کہا ہے کہ لکش گوپی سیٹی سے رابطہ نہیں ہوپارہا اور ان کی تلاش و سلامتی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ ان کی موت کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔ لہٰذا فی الحال انہیں لاپتہ یا ناقابلِ رابطہ ہی قرار دیا جارہا ہے۔ کمپنی اور متعلقہ اداروں کی جانب سے مزید معلومات سامنے آنے کے بعد ہی ان کی صورتحال واضح ہوسکے گی۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read