یپال میں جاری عوامی مظاہروں کے پیشِ نظر ہندوستانی حکام نے ہندوستان-نیپال سرحد پر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق سرحدی حفاظتی فورس سشستر سیما بل (SSB) نے نگرانی سخت کر دی ہے تاکہ نیپال کی صورت حال کے اثرات ہندوستان میں داخل نہ ہوں۔ حکام نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا کہ یہ الرٹ ’’احتیاطی نوعیت‘‘ کا ہے اور فی الحال صورت حال قابو میں ہے۔ سرحد پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے، جب کہ متعدد سرحدی چوکیوں پر سخت چیکنگ کا عمل جاری ہے۔
اس حوالے سے مقامی انتظامیہ کے ساتھ قریبی رابطہ بھی برقرار رکھا جا رہا ہے تاکہ عام لوگوں کی نقل و حرکت متاثر نہ ہو اور ساتھ ہی سیکیورٹی بھی یقینی بنائی جا سکے۔ واضح رہے کہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان 1,751 کلومیٹر طویل کھلی سرحد ہے، جو اتراکھنڈ، بہار، اتر پردیش، مغربی بنگال اور سکم سے گزرتی ہے۔ یہ سرحد دونوں ممالک کے شہریوں کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دیتی ہے، جو سماجی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو فروغ دیتی ہے۔ تاہم نیپال میں جب کبھی سیاسی کشیدگی یا مظاہرے ہوتے ہیں، تو سیکیورٹی خدشات کے تحت ہندوستان کو سخت اقدامات کرنے پڑتے ہیں۔
نیپال میں حالیہ مظاہرے اس وقت شدت اختیار کر گئے جب ہزاروں نوجوانوں نے پارلیمنٹ کی عمارت میں گھس کر حکومت کے خلاف احتجاج کیا۔ یہ مظاہرہ سوشل میڈیا پر پابندی اور مبینہ حکومتی کرپشن کے خلاف کیا گیا۔ نیپال حکومت نے فیس بک سمیت کئی پلیٹ فارمز پر پابندی لگا دی ہے، یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ جعلی آئی ڈیز سے نفرت انگیز مواد، جھوٹی خبریں اور آن لائن فراڈ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ دریں اثنا ہندوستانی وزارت داخلہ کو سشستر سیما بل کی جانب سے مسلسل رپورٹیں بھیجی جا رہی ہیں۔ واضح رہے کہ SSB نہ صرف سرحدی حفاظت کی ذمہ دار ہے، بلکہ ملک کے اندر شورش زدہ علاقوں میں انسداد بغاوت اور داخلی سلامتی کی ذمہ داریاں بھی انجام دیتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





