Urdu Conclave 2026

Nepal Politics

دیوبا 25 فروری کو اپنی اہلیہ اور سابق وزیر ارزو رانا دیوبا کے ہمراہ علاج کے لیے سنگاپور گئے تھے۔ جمعرات کو وہ اکیلے نیپال واپس لوٹے۔ کھٹمنڈو کے تریبھون بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ان کا میوزیکل بینڈ اور ثقافتی پروگراموں کے ساتھ شاندار استقبال کیا گیا۔

اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے مہنت ٹھاکر نے کہا ’’ہم انہیں کیا کہیں؟ نیپالی آمر یا نیپالی ہٹلر؟ وہ نیپالی ہٹلر بن چکے ہیں۔ جو کچھ وہ کہتے ہیں، وہی درست سمجھا جاتا ہے اور جو وہ نافذ کرتے ہیں، وہی قانون بن جاتا ہے۔ اس طرزِ حکمرانی سے ملک مزید بحران کی طرف بڑھ رہا ہے۔‘‘ 

نیپال کی سیاست میں حالیہ پیش رفت نے نئی حکومت کے حوالے سے امید اور غیر یقینی دونوں کو بڑھا دیا ہے۔ کے پی اولی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (RSP) کی کامیابی کے ساتھ بالیندر شاہ کی قیادت میں نئی حکومت قائم ہوئی، لیکن تشکیل کے چند ہی دنوں میں دو وزراء کے استعفوں نے اس کی سیاسی استحکام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

وزیراعظم بالیندر شاہ کی قیادت میں قائم حکومت کے لیے یہ دوسرا بڑا استعفیٰ ہے۔ اس سے قبل محنت و روزگار کے وزیر کمار شاہ کو بدعنوانی اور نظم و ضبط کی خلاف ورزی کے الزامات پر عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔

راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس اکثریت کے ساتھ پارٹی آئینی ترامیم بھی کرسکتی ہے۔ تاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ آیا پارٹی طویل مدت تک متحد رہ پائے گی یا نہیں۔ شاہ کی مقبولیت اور پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی تنظیم پر مضبوط گرفت نے نوجوان ووٹروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جو روایتی جماعتوں کے حامی تھے لیکن اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔

نیپال میں آئندہ عام انتخابات سے پہلے ایک بار پھر حالات کشیدہ ہو گئے ہیں اور فرقہ وارانہ تشدد نے ملک کے امن و امان کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ مارچ 2026 میں ہونے والے انتخابات سے محض چند ہفتے قبل بھارتی سرحد سے متصل علاقوں میں بھڑک اٹھنے والے فسادات نے نہ صرف مقامی انتظامیہ بلکہ خطے کی سلامتی سے وابستہ اداروں کو بھی چوکنا کر دیا ہے۔

اب کارکی کابینہ میں کل سات وزراء شامل ہیں۔ پہلے سے موجود وزراء میں ریمیشور کھنال (وزیر خزانہ)، کلمان گھسنگ (وزیر توانائی، آبی وسائل و آبپاشی) اور اوم پرکاش آریال (وزیر داخلہ) شامل ہیں۔