Urdu Conclave 2026

Nepal Politics: نیپال کے نئے وزیراعظم کے طور پر بالیندر شاہ کو بحال کرنی ہوگی ریاست کی ساکھ، سیاسی استحکام عوام کی بنیادی خواہش

راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس اکثریت کے ساتھ پارٹی آئینی ترامیم بھی کرسکتی ہے۔ تاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ آیا پارٹی طویل مدت تک متحد رہ پائے گی یا نہیں۔ شاہ کی مقبولیت اور پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی تنظیم پر مضبوط گرفت نے نوجوان ووٹروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جو روایتی جماعتوں کے حامی تھے لیکن اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔

نیپال میں مارچ 2026 کے انتخابات میں راشٹریہ سواتنتر پارٹی نے حیران کن کامیابی حاصل کی ہے اور بالیندر شاہ سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کو شکست دے کر وزیراعظم بننے والے ہیں۔ یہ انتخابی نتیجہ دراصل ان جماعتوں کے خلاف عوامی رد عمل کی علامت ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے ملک پر حکومت کرتی رہی ہیں۔ تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے اور ماؤ نواز تحریک کے رہنما پشپ کمل دہل پرچنڈ کے علاوہ تقریباً کسی بڑے قومی یا علاقائی جماعت کے سربراہ کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ پرچنڈا نے ماؤ نواز بغاوت کے مرکز رکوم ایسٹ سے کامیابی حاصل کی، تاہم وہ اس بار نیپالی کمیونسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے میدان میں اترے تھے۔

دو تہائی اکثریت، مگر چیلنجز برقرار

راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس اکثریت کے ساتھ پارٹی آئینی ترامیم بھی کرسکتی ہے۔ تاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ آیا پارٹی طویل مدت تک متحد رہ پائے گی یا نہیں۔ شاہ کی مقبولیت اور پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی تنظیم پر مضبوط گرفت نے نوجوان ووٹروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جو روایتی جماعتوں کے حامی تھے لیکن اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔ مختلف سروے میں نیپالی عوام کی تین بڑی خواہشات سامنے آئی ہیں جس میں بہتر طرز حکمرانی، بدعنوانی کا خاتمہ اور سیاسی استحکام توجہ کا مرکز ہوگا۔ اصل امتحان یہی ہے، کیونکہ گزشتہ برسوں میں بڑے وعدوں کے بعد کمزور کارکردگی نے تقریباً ہر بڑے رہنما کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

میئر کی حیثیت سے سخت فیصلے

تقریباً 36 سال کے بالیندر شاہ کو حکمرانی کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ تاہم کٹھمنڈو کے میئر کے طور پر تین سال سے زیادہ عرصے کے دوران دسمبر میں استعفیٰ دینے تک انہوں نے کئی علامتی مگر جرأت مندانہ اقدامات کیے۔ انہوں نے شہر کی صفائی کے معاملے میں سخت اقدامات کیے، تجاوزات ہٹائیں اور بدعنوانی کے معاملات پر اس وقت کے وزیراعظم کو بھی چیلنج کیا۔ بطور میئر انہوں نے بھارت اور چین دونوں کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا۔ مثال کے طور پر انہوں نے ہندی فلم آدی پورش کی نمائش پر پابندی لگا دی تھی کیونکہ اس میں سیتا کو بھارت میں پیدا ہوا دکھایا گیا تھا۔ اسی طرح انہوں نے بھارت کی نئی پارلیمنٹ کی دیوار پر بنائے گئے نقشے میں لمبنی کو بھارت میں دکھانے کی بھی مخالفت کی تھی۔

وزیراعظم کے طور پر مختلف قسم کے چیلنجز

تاہم ایک شہر کے آزاد میئر اور ایک ملک کے وزیراعظم کی ذمہ داریاں بالکل مختلف ہوتی ہیں۔ بھارت نے راشٹریہ سواتنتر پارٹی کی کامیابی کا خیر مقدم کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے شاہ اور روی لامی چھانے دونوں کو فون کر کے دو طرفہ تعاون جاری رکھنے اور دونوں ممالک کی ترقی و خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اسی طرح امریکہ نے بھی مبارک باد دیتے ہوئے مشترکہ خوشحالی اور سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی، جبکہ چین نے ’’اسٹریٹجک پارٹنرشپ‘‘ کی تجویز پیش کی ہے۔ ان تمام اشاروں سے واضح ہے کہ نیپال میں بیرونی دلچسپی مزید بڑھے گی اور اس کے اثرات ملکی سیاست پر بھی پڑیں گے۔

حکومت سازی اور داخلی سیاست کے خدشات

اگرچہ راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو واضح اکثریت حاصل ہے، پھر بھی حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما ڈی پی آریال کو اپنا بیان واپس لینا پڑا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ پارٹی کو اس بات کی اطلاع نہیں تھی کہ شاہ وزیراعظم بنیں گے۔ کچھ رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کابینہ کی تشکیل کا فیصلہ شاہ کا اختیار ہونا چاہیے تاکہ گزشتہ دو دہائیوں میں بار بار حکومتوں کے ٹوٹنے اور سیاسی بحرانوں سے بچا جا سکے۔ دوسری طرف نیپالی فوج بھی سیاست میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل کر سکتی ہے۔ جب نوجوانوں کی جین زی احتجاجی تحریک کے بعد اولی حکومت گر گئی تھی تو فوج نے مذاکرات کے لیے پلیٹ فارم فراہم کیا تھا۔ اگرچہ بحران کے وقت فوج کو ایک قابل اعتماد قومی ادارہ سمجھا جاتا ہے، لیکن جمہوریت پر اس کے ممکنہ اثرات ابھی دیکھنا باقی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read