Bharat Express DD Free Dish

Nepal PM

وزیراعظم مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں ہندوستان ’’نیپال میں اپنے بہن بھائیوں‘‘ کے ساتھ مضبوطی سے یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کی ٹیمیں بچاؤ اور راحت رسانی کی کوششوں میں قریبی تال میل کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

نیشنل انڈیپنڈنٹ پارٹی (آر ایس پی) کے لیڈر بالین شاہ نے جمعہ کو نیپال کے نئے وزیر اعظم کے طور پر حلف اٹھا لیا۔ محض 35 سال کی عمر میں جین-زی نسل کے لیڈر بالین شاہ نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اس موقع پر بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی بالین شاہ کو مبارکباد پیش کی۔

جمعہ کو دوپہر 12 بج کر 34 منٹ پر صدارتی دفتر میں منعقدہ شاندار تقریب میں بالین شاہ نے عہدے اور رازداری کا حلف اٹھایا۔ یہ تقریب ہندو رسم و رواج کے مطابق انجام دی گئی۔ تقریب کے آغاز میں سات افراد نے شنگھ بجا کر تقریب کا آغاز کیا،

راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس اکثریت کے ساتھ پارٹی آئینی ترامیم بھی کرسکتی ہے۔ تاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ آیا پارٹی طویل مدت تک متحد رہ پائے گی یا نہیں۔ شاہ کی مقبولیت اور پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی تنظیم پر مضبوط گرفت نے نوجوان ووٹروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جو روایتی جماعتوں کے حامی تھے لیکن اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔

اب کارکی کابینہ میں کل سات وزراء شامل ہیں۔ پہلے سے موجود وزراء میں ریمیشور کھنال (وزیر خزانہ)، کلمان گھسنگ (وزیر توانائی، آبی وسائل و آبپاشی) اور اوم پرکاش آریال (وزیر داخلہ) شامل ہیں۔

1952 میں پیدا ہونے والے اولی نے 12 سال کی عمر میں سیاست میں قدم رکھا۔ وہ مارکس اور لینن سے متاثر ہوئے اور کمیونسٹ سیاست میں چلے گئے۔ 14 سال جیل میں بھی رہے۔ بعد میں نیپال کی کمیونسٹ پارٹی بنائی۔

یہ پانچواں موقع تھا جب پشپ کمل دہل 'پرچنڈ' کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کے ووٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے قبل وہ چار کوششوں میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

تجارت اور صنعت کے وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستان اور نیپال کے درمیان ایک ایسا رشتہ ہے جو سیاسی یا جغرافیائی سیاسی یا اقتصادی مسائل تک محدود نہیں ہے۔

دونوں رہنماوں نے نیپال اور بھارت کے باہمی مفادات کے متعدد امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ سرحدی تنازعہ کو حل کرنے کے علاوہ سیکورٹی کے امور پر بھی گفتگو کی گئی ۔ دونوں ملکوں کی سرحدیں کیسے محفوظ رہیں اس کیلئے اپنی حکمت عملی  پر از سر نو غور کرنے کی کوشش کی گئی ۔