Urdu Conclave 2026

Balendra Shah

نیپالی پارلیمنٹ میں منیش جھا نے بالیندر شاہ حکومت کے انتظامی طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے حکومت کی نیت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے بارے میں کوئی شک یا سوال نہیں ہے۔ حالانکہ، ایسا لگتا ہے کہ انتظامی صلاحیت میں کہیں کمی ہے اور اسے تسلیم کرنا ہوگا۔

نیپال کے وزیر اعظم بالن شاہ اپنے اس سخت سفارتی اصول میں نرمی لانے جا رہے ہیں، جس کے تحت وہ کسی بھی غیر ملکی سفیر سے تنہائی میں ملاقات نہیں کرتے تھے۔ حکومت کے 100 دن مکمل ہونے کے بعد بالن شاہ اس ہفتے بھارت اور چین کے سفیروں سے الگ الگ ون آن ون ملاقات کریں گے۔

وزیر اعظم شاہ نے بتایا کہ سرحدی تنازع کے سلسلے میں انہوں نے برطانیہ کی حکومت سے بات چیت کی ہے۔ ان کے مطابق نیپال نے اس معاملے پر بھارت کو ایک باضابطہ سفارتی نوٹ بھیجا تھا، جس کا جواب بھی موصول ہو چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیپال اپنی تقریباً 70 فیصد ادویات بیرون ملک سے درآمد کرتا ہے، جن میں 90 فیصد دوائیں بھارت سے آتی ہیں۔ اس کے باوجود حالیہ مہینوں میں بھارتی اور دیگر غیر ملکی ادویات پر غیر اعلانیہ پابندیوں اور سخت نگرانی نے سپلائی چین کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب مقامی سطح پر تمام ضروری ادویات تیار ہی نہیں ہوتیں تو درآمدات محدود کرنا صحت کے نظام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

نیپالی حکام کے مطابق نئی پابندیوں میں ڈالڈا، مشروبات، گوشت، مچھلی، اچار اور ادویات سمیت کئی روزمرہ استعمال کی اشیاء شامل ہیں۔ انتظامیہ نے واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ بھارت سے خرید کر ان اشیاء کو نیپال میں فروخت کرنا اب ممنوع ہوگا۔

یہ پہلا موقع ہے جب نیپال کی تاریخ میں کسی چیف ایگزیکٹو کو قتل کے شبہ میں حراست میں لیا گیا ہے۔ پہلے سابق وزرائے اعظم کو عموماً تحقیقات کے لیے یا محدود نگرانی میں رکھا جاتا تھا، لیکن سیاسی مظاہروں اور احتجاجی واقعات میں وہ پولیس کی نگرانی میں رہ چکے ہیں

راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس اکثریت کے ساتھ پارٹی آئینی ترامیم بھی کرسکتی ہے۔ تاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ آیا پارٹی طویل مدت تک متحد رہ پائے گی یا نہیں۔ شاہ کی مقبولیت اور پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی تنظیم پر مضبوط گرفت نے نوجوان ووٹروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جو روایتی جماعتوں کے حامی تھے لیکن اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔