Kya Bolti Public: ’’کیا بولتی پبلک‘‘ مہم کا اعلان، سی جے پی نے سیاسی جماعت بننے سے کیا انکار، ستمبر سے شروع ہوگی ملک گیر عوامی رابطہ مہم
کاکروچ جنتا پارٹی نے واضح کیا کہ وہ فی الحال خود کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر نہیں کرائے گی بلکہ ایک پریشر گروپ (دباؤ گروپ) کی حیثیت سے کام کرے گی۔ سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تنظیم جواہر لال نہرو، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور مہاتما گاندھی کے نظریات سے رہنمائی حاصل کرے گی۔
Constitution Amendment: متنازع 130ویں آئینی ترمیمی بل میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی 30 روزہ عدالتی تحویل پر عہدہ چھوڑنے کی شق برقرار رہنے کا امکان
ذرائع کے مطابق، کمیٹی بل کی اس متنازع شق کو برقرار رکھنے کی سفارش کر سکتی ہے، جس کے تحت سنگین جرائم کے مقدمات میں گرفتار ہو کر مسلسل 30 دن تک عدالتی تحویل میں رہنے کی صورت میں وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور مرکزی یا ریاستی وزراء کو خود بخود اپنے عہدے سے ہٹانا لازمی ہوگا۔
Nari Shakti Vandan Adhiniyam: خواتین کی قانون ساز اداروں میں شمولیت ملک کی ترقی اور جمہوریت کے استحکام کے لیے ضروری: وزیراعظم
وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین کو ان کا جائز حق دینے میں مزید تاخیر ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ آنے والا پارلیمانی اجلاس اس سمت میں ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا اور آنے والی نسلیں اسے ایک سنگ میل کے طور پر یاد رکھیں گی۔
Nepal Politics: نیپال کے نئے وزیراعظم کے طور پر بالیندر شاہ کو بحال کرنی ہوگی ریاست کی ساکھ، سیاسی استحکام عوام کی بنیادی خواہش
راشٹریہ سواتنتر پارٹی کو پارلیمنٹ میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی ہے، جو ایک غیر معمولی کامیابی ہے۔ اس اکثریت کے ساتھ پارٹی آئینی ترامیم بھی کرسکتی ہے۔ تاہم اس بات پر خدشات موجود ہیں کہ آیا پارٹی طویل مدت تک متحد رہ پائے گی یا نہیں۔ شاہ کی مقبولیت اور پارٹی سربراہ روی لامیچھانے کی تنظیم پر مضبوط گرفت نے نوجوان ووٹروں کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی اپنی طرف متوجہ کیا جو روایتی جماعتوں کے حامی تھے لیکن اپنے رہنماؤں سے مایوس ہو چکے تھے۔
Election Commission of India: الیکشن کمیشن کا انتخابی نظام میں شفافیت کیلئے بڑا قدم، 476 سیاسی پارٹیاں لسٹ سے ہٹانے کی کارروائی شروع، 334 پہلے ہی ہوچکی ہیں باہر
پہلے مرحلے کے بعد اب دوسرے مرحلے میں 476 دیگر RUPP کی نشاندہی کی گئی ہے۔ یہ پارٹیاں بھی پچھلے چھ سال میں کسی بھی انتخاب میں حصہ لینے میں ناکام رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن نے ان کے اخراج کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے۔ کمیشن کے مطابق یہ پورا عمل سیاسی نظام کو غیر فعال یا غیر سنجیدہ پارٹیوں سے پاک کرنے، انتخابی فہرست کو درست رکھنے اور جمہوری عمل کو مؤثر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔




