چھترپتی سمبھاجی نگر: نیٹ (NEET) پرچہ لیک کے خلاف جنتر منتر پر احتجاج کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) نے ستمبر سے ملک گیر عوامی رابطہ مہم ’کیا بولتی پبلک‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ وہ فی الحال خود کو سیاسی جماعت کے طور پر رجسٹر نہیں کرائے گی بلکہ ایک پریشر گروپ (دباؤ گروپ) کی حیثیت سے کام کرے گی۔ سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے پریس کانفرنس میں کہا کہ تنظیم جواہر لال نہرو، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اور مہاتما گاندھی کے نظریات سے رہنمائی حاصل کرے گی۔ ان کے مطابق تنظیم سیکولر اقدار اور سماجی انصاف کے فروغ کے لیے سرگرم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے۔ اگر عوام کی بات نہیں سنی گئی تو لوگ سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوں گے۔
الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر سوال
ابھجیت دیپکے نے ملک کے جمہوری اداروں، بالخصوص الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ادارہ جاتی جوابدہی خطرناک صورتحال سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلے عوام حکومت کا انتخاب کرتے تھے، لیکن اب حکومت یہ طے کر رہی ہے کہ ووٹ کون ڈالے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب تک الیکشن کمیشن کی جوابدہی یقینی نہیں بنائی جاتی، انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔
ستمبر میں ملک گیر رابطہ مہم کا اعلان
سی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے ان افواہوں کی تردید کی کہ تنظیم جلد سیاسی جماعت بننے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں نئی سیاسی جماعت قائم کرنا مفید نہیں ہوگا، اس لیے تنظیم صرف ایک دباؤ گروپ کے طور پر عوامی مسائل کو اجاگر کرے گی اور حکومت پر عوامی مطالبات کے حق میں دباؤ ڈالے گی۔ انہوں نے بتایا کہ تنظیم نے اپنی نئی قیادت کا بھی اعلان کیا ہے، جس کے تحت ابھجیت دیپکے کو کنوینر، سوربھ اور آشوتوش کو شریک کنوینر جبکہ دیپک بالیان کو شریک انچارج مقرر کیا گیا ہے۔ تنظیم کے مطابق ’کیا بولتی پبلک‘ مہم کے تحت ملک بھر میں مختلف شہروں اور علاقوں کا دورہ کیا جائے گا، جہاں عوام سے براہِ راست رابطہ کرکے ان کے مسائل، تجاویز اور شکایات سنی جائیں گی۔ سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس مہم کا مقصد عوامی رائے کو قومی مباحثے کا مرکز بنانا اور آئینی و جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے عوامی بیداری پیدا کرنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

