Bharat Express DD Free Dish

Constitution Amendment: متنازع 130ویں آئینی ترمیمی بل میں وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کی 30 روزہ عدالتی تحویل پر عہدہ چھوڑنے کی شق برقرار رہنے کا امکان

ذرائع کے مطابق، کمیٹی بل کی اس متنازع شق کو برقرار رکھنے کی سفارش کر سکتی ہے، جس کے تحت سنگین جرائم کے مقدمات میں گرفتار ہو کر مسلسل 30 دن تک عدالتی تحویل میں رہنے کی صورت میں وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور مرکزی یا ریاستی وزراء کو خود بخود اپنے عہدے سے ہٹانا لازمی ہوگا۔

نئی دہلی: متنازع 130ویں آئینی ترمیمی بل کا جائزہ لینے والی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے بارے میں امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ 17 جولائی کو اپنی رپورٹ منظور کرے گی۔ ذرائع کے مطابق، کمیٹی بل کی اس متنازع شق کو برقرار رکھنے کی سفارش کرسکتی ہے، جس کے تحت سنگین جرائم کے مقدمات میں گرفتار ہو کر مسلسل 30 دن تک عدالتی تحویل میں رہنے کی صورت میں وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور مرکزی یا ریاستی وزراء کو خود بخود اپنے عہدے سے ہٹانا لازمی ہوگا۔

30 روزہ عدالتی تحویل کی شق برقرار رہنے کا امکان

ذرائع کے مطابق، کمیٹی کا اجلاس بدھ کے روز منعقد ہوا، جبکہ اگلا اجلاس 17 جولائی کو طلب کیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف فریقوں کی جانب سے اس شق پر اعتراضات کے باوجود کمیٹی کے اس متنازع دفعہ کو حذف کرنے کی سفارش کرنے کا امکان کم ہے۔ تاہم، رپورٹ میں ایسے حفاظتی اقدامات شامل کیے جا سکتے ہیں جن کا مقصد سیاسی انتقام یا بدنیتی پر مبنی مقدمات کے ذریعے اس قانون کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا ہوگا۔ مجوزہ آئینی ترمیم نے ملک میں سیاسی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ بل کے حامیوں کا کہنا ہے کہ اس سے عوامی عہدوں پر احتساب کو مزید مضبوطی ملے گی، جبکہ ناقدین کا استدلال ہے کہ اس شق کا استعمال سیاسی مقاصد کے لیے منتخب حکومتوں کو غیر مستحکم کرنے اور مخالف رہنماؤں کے خلاف کارروائی کے لیے کیا جا سکتا ہے۔

17 جولائی کو رپورٹ کی منظوری متوقع

ذرائع کے مطابق، مشترکہ پارلیمانی کمیٹی 17 جولائی کے اجلاس میں اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے کر منظور کرے گی، جس کے بعد اسے مزید غور و خوض کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ کمیٹی کی جانب سے مختلف ریاستوں میں جاری مشاورتی عمل کو پارلیمنٹ کی جانب سے اہم آئینی اور وفاقی معاملات پر وسیع تر عوامی مشاورت اور جامع غور و فکر کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل مارچ 2026 میں لوک سبھا نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ سے متعلق بل پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ پیش کرنے کی مدت میں توسیع کی تھی، تاکہ کمیٹی اپنی رپورٹ 2026 کے مانسون اجلاس کے آخری ہفتے کے پہلے دن تک پیش کر سکے۔ یہ آئینی ترمیمی بل دسمبر 2024 میں لوک سبھا میں پیش کیا گیا تھا، جس کے بعد مزید جانچ اور غور کے لیے اسے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی مشترکہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read