امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے 37 سالہ اقتدار کو ختم کرنے کی کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں اب نئی قیادت کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ نے الزام لگایا کہ خامنہ ای کی قیادت نے ایران کو دنیا کی بدترین مقام بنادیا ہے اور ان کے دور میں بے مثال جبر اور تشدد استعمال کیا گیا ہے۔17 جنوری 2026 کو ایک نیوز چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی موجودہ قیادت خوف اور تشدد کے سہارے اقتدار برقرار رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا، “اب وقت آ گیا ہے کہ ایران میں نئی لیڈرشپ کے بارے میں سوچا جائے۔” ٹرمپ نے خامنہ ای کو “بیمار ذہن کا حامل شخص” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ انہوں نے ملک کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے اور ہزاروں افراد کی جان لے کر کنٹرول قائم رکھنا کسی بھی طرح درست نہیں۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ خامنہ ای کا حالیہ دنوں میں “سب سے بہتر فیصلہ” یہ تھا کہ انہوں نے ایک دن میں 800 سے زائد افراد کو پھانسی نہیں دی۔ ان کے مطابق قیادت کا مطلب ملک کو بہتر انداز میں چلانا ہوتا ہے، نہ کہ خوف اور موت کے ذریعے اقتدار سنبھالے رکھنا۔ انہوں نے کہا کہ قیادت احترام سے چلتی ہے، نہ کہ دہشت کے سائے میں۔یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران میں کئی ہفتوں سے شدید عوامی احتجاج جاری ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہو رہے ہیں، جن پر سیکورٹی فورسز نے سخت کارروائیاں کیں۔ رپورٹس کے مطابق ان جھڑپوں میں کم از کم 3,428 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ٹرمپ اس سے قبل خبردار کر چکے تھے کہ اگر ایرانی حکومت مظاہرین کو قتل کرتی ہے تو امریکہ فوجی مداخلت پر غور کر سکتا ہے۔ انہوں نے مظاہرین سے یہ بھی کہا تھا کہ “مدد راستے میں ہے”، قابل ذکر بات یہ ہے کہ اب تک کسی براہ راست امریکی کارروائی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ٹرمپ کے بیانات کا سخت جواب دیا ہے۔ انہوں نے مظاہرین کو “غدار” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی “کمر توڑ دی جائے گی”۔ خامنہ ای نے ان ہلاکتوں اور نقصان کا ذمہ دار امریکہ کو ٹھہرایا اور کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن اندرونی مجرموں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے “بین الاقوامی مجرموں” کو بھی سزا دینے کی بات کی۔ایرانی حکومت نے ان احتجاجات کو “دہشت گرد سرگرمیاں” اور “فسادات” قرار دیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ سب امریکہ کی سازش کا نتیجہ ہیں، جس کا مقصد ایران پر فوجی، سیاسی اور معاشی دباؤ ڈالنا ہے۔ دریں اثنا جلا وطن ولی عہد رضا پہلوی نے ایرانی عوام سے احتجاج اور غصے کے ساتھ آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایران کو ایک سیکولر جمہوریت کی طرف لے جانا چاہتے ہیں اور ریفرنڈم کے ذریعے آئندہ نظام کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ کئی مظاہرین نے ان کے حق میں نعرے بھی لگائے ہیں، جس سے ایران کی سیاست میں ایک نئے موڑ کے آثار نظر آ رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
