مشرق وسطیٰ میں ایران کو گھیرنے کی امریکی کوششوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب عراق میں شیعہ اتحاد نے سابق وزیرِ اعظم نوری المالکی کے نام کو ایک بار پھر وزارتِ عظمیٰ کے لیے آگے بڑھا دیا۔ نوری المالکی کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا قریبی سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمانی اکثریت کے پیش نظر امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ المالکی آسانی کے ساتھ عراق کے نئے وزیرِ اعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔ اس پیش رفت کے بعد امریکہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور واشنگٹن نے اسے اپنے مفادات کے خلاف قدم قرار دیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے پریس ٹی وی کے مطابق عراق کی تمام شیعہ اکثریتی جماعتیں متفقہ طور پر نوری المالکی کے نام پر راضی ہو گئی ہیں۔ المالکی اس سے قبل 2006 سے 2014 تک عراق کے وزیرِ اعظم رہ چکے ہیں۔ اس دوران ان کا دور نہ صرف سیاسی طور پر متنازع رہا بلکہ عراق کی داخلی سلامتی اور علاقائی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ اب ایک دہائی بعد ان کی واپسی کو ایران کے اثر و رسوخ میں اضافے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نوری المالکی کی سیاسی زندگی خاصی طویل اور نشیب و فراز سے بھرپور رہی ہے۔ 75 سالہ نوری المالکی کی پیدائش عراق کے صوبہ الہندیہ میں ہوئی۔ 1980 کی دہائی کے آغاز میں جب عراق میں شیعہ مزاحمتی تحریکوں نے زور پکڑا تو المالکی بھی اس میں شامل ہو گئے۔ اس وقت ملک پر صدام حسین کی حکومت تھی، جس نے شیعہ رہنماؤں کے خلاف سخت کارروائیاں کیں۔ نتیجتاً نوری المالکی کو ملک چھوڑنا پڑا اور وہ تقریباً 24 برس تک جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔ جلاوطنی کے دوران نوری المالکی نے ایران میں پناہ لی، جہاں ان کے ایران کی قیادت، بالخصوص سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے۔ 2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد صدام حسین کا اقتدار ختم ہوا تو المالکی وطن واپس لوٹے۔ سیاسی حالات بدلنے کے بعد وہ تیزی سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے اور 2006 میں عراق کے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔
تاہم 2014 میں ان پر بدعنوانی اور ناقص حکمرانی کے الزامات عائد ہوئے، جس کے بعد انہیں وزارتِ عظمیٰ چھوڑنی پڑی۔ اس وقت امریکہ نے ان کی رخصتی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اب ایک بار پھر ان کی ممکنہ واپسی نے واشنگٹن کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، کیونکہ اسے عراق میں ایرانی اثرات کے مزید مضبوط ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی تناظر میں امریکہ کے وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے عراق کے موجودہ وزیرِ اعظم محمد شیاع السودانی کو فون کیا۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے اس فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے زیرِ اثر حکومت عراق کے قومی مفادات کو ترجیح نہیں دے سکتی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی حکومت نہ تو عراق کو علاقائی تنازعات سے دور رکھ سکے گی اور نہ ہی امریکہ اور عراق کے درمیان باہمی فائدے کی شراکت داری کو آگے بڑھا سکے گی۔
ماہرین کے مطابق نوری المالکی کی واپسی امریکہ کے لیے کئی حوالوں سے تشویش کا باعث ہے۔ عراق اور ایران کے درمیان تقریباً 1500 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس کے باعث ایران کو ایک محفوظ بفر زون میسر آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ عراق میں پہلے ہی ایران نواز ملیشیاؤں کی موجودگی ہے، جنہیں سرکاری سرپرستی ملنے کا امکان بڑھ جائے گا۔ مزید یہ کہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ فوجی کارروائی میں عراق کی جغرافیائی اہمیت غیر معمولی ہے، کیونکہ سعودی عرب پہلے ہی اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے انکار کر چکا ہے۔ ایسے میں عراق کا ایران کے ساتھ کھڑا ہونا تہران کے لیے بڑی سفارتی اور تزویراتی کامیابی تصور کیا جا رہا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




