تل ابیب/بیروت: ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کے لیے پاکستان میں مذاکرات کی تیاریوں کے درمیان اسرائیل نے لبنان میں شدید بمباری جاری رکھی ہے، جس کے نتیجے میں صرف بدھ کے روز 300 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں جاری پیچیدہ اور کئی سطحوں پر پھیلے تنازعہ کی عکاسی کرتی ہے، جہاں ایک محاذ پر کشیدگی میں کمی کے باوجود دوسرے محاذ پر لڑائی شدت اختیار کیے ہوئے ہے۔ ماہرین کے مطابق بظاہر یہ صورتحال متضاد دکھائی دیتی ہے کہ ایران کے ساتھ تناؤ میں کمی کے باوجود اسرائیل لبنان میں کارروائیاں کیوں جاری رکھے ہوئے ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ خطے میں مختلف اور باہم جڑے ہوئے تنازعات بیک وقت جاری ہیں، جنہیں ہر فریق اپنے مفادات کے مطابق دیکھ رہا ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی محدود نوعیت کی ہے اور اس کا اطلاق لبنان میں سرگرم تنظیم حزب اللہ پر نہیں ہوتا۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ ایک علیحدہ اور سنگین خطرہ ہے، جو اسرائیل کی شمالی سرحد پر مسلسل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ وہ حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے، اسلحہ کے ذخائر اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ مستقبل میں اس کی حملہ کرنے کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔
دوسری جانب لبنان کے اندر صورتحال نہایت مختلف ہے۔ وہاں کے عوام کے لیے یہ تنازعہ محض ایک اسٹریٹیجک مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین انسانی المیہ بن چکا ہے۔ بیروت اور دیگر علاقوں میں مسلسل بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عام شہری جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ متعدد رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں مقامی حکام اور شہریوں کا کہنا ہے کہ کوئی عسکری تنصیبات موجود نہیں تھیں۔ ان کے مطابق اسرائیلی حملے غیر متناسب ہیں اور اس کا خمیازہ عام آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔
حزب اللہ کا نقطہ نظر اس سے مختلف ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس نے ابتدا میں ایران کی حمایت میں اور بعد ازاں اسرائیلی جارحیت کے ردعمل میں کارروائیاں کیں۔ حزب اللہ خود کو لبنان کے دفاع کا ضامن قرار دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ وہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج کی پیش قدمی کو روک رہی ہے۔ تنظیم کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جانا چاہیے تھا اور چونکہ ایسا نہیں ہوا، اس لیے اس نے اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ادھر ایران اس پورے تنازعہ کو وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھتا ہے۔ ایران خود کو اسرائیل کے خلاف مزاحمتی محور کا مرکز سمجھتا ہے، جس میں حزب اللہ جیسے اتحادی شامل ہیں۔ اگرچہ ایران نے براہ راست تصادم میں کمی کا اشارہ دیا ہے، تاہم وہ اپنے اتحادیوں کے ذریعے خطے میں اپنا اثر و رسوخ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ ایران اور اس کے حامیوں کے نزدیک یہ محض ایک محدود فوجی تنازعہ نہیں بلکہ علاقائی طاقت کے توازن اور سیاسی اثر و رسوخ کی جنگ بھی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


