تل ابیب: اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے کہا ہے کہ اس نے جنوبی لبنان میں ہفتہ کے روز متعدد مقامات پر فضائی اور زمینی حملے کیے، جن میں حزب اللہ سے منسلک انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا۔ فوج کے مطابق یہ کارروائیاں ان مقامات کے خلاف کی گئیں جہاں سے اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ آئی ڈی ایف کے بیان کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں تقریباً 70 فوجی ڈھانچوں اور 50 سے زائد ایسے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا جو حزب اللہ سے وابستہ تھے۔ ان میں کمانڈ سینٹرز، اسلحہ ذخیرہ کرنے کے مراکز، فوجی عمارتیں اور دیگر تنصیبات شامل تھیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ان کارروائیوں کے دوران ایسے مسلح افراد کو بھی نشانہ بنایا گیا جو اسرائیلی فوجیوں کے قریب سرگرم تھے اور فوری خطرہ بن سکتے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اپنے شہریوں اور فوجیوں کے تحفظ کے لیے اسی طرح کی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
غزہ میں بھی جھڑپیں، تین جنگجو ہلاک
دوسری جانب جنوبی غزہ پٹی میں بھی کشیدگی برقرار رہی۔ آئی ڈی ایف کے مطابق فوجیوں نے چار مسلح افراد کو ’’ییلو لائن‘‘ عبور کرتے ہوئے دیکھا، جو اسرائیلی پوزیشنز کے قریب پہنچ رہے تھے۔ فوج نے بتایا کہ خطرے کے پیش نظر فائرنگ کی گئی، جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک جبکہ ایک زخمی ہوا۔ اسرائیلی فوج نے واضح کیا کہ اس کی جنوبی کمان جنگ بندی معاہدے کے مطابق تعینات ہے، تاہم فوری خطرات کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ ادھر نعیم قاسم نے 27 اپریل کو ایک بیان میں اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت جاری رہے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم اپنے ہتھیار نہیں ڈالے گی اور ہر طرح کے تصادم کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے لبنانی حکومت کی سفارتی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ براہ راست مذاکرات ناقابل قبول ہیں اور حکومت کو بالواسطہ سفارتی راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
جنگ بندی خطرے میں، اسرائیل کا سخت انتباہ
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی حالیہ دنوں میں کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کا نظام حزب اللہ کی کارروائیوں کی وجہ سے کمزور ہو رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل اپنی شمالی سرحد کے تحفظ کے لیے طاقت کا استعمال جاری رکھے گا۔ نیتن یاہو کے مطابق اسرائیلی فوج نہ صرف متحرک ہے بلکہ پوری قوت کے ساتھ کارروائی کر رہی ہے تاکہ کسی بھی خطرے کو فوری طور پر ختم کیا جا سکے۔ یہ تمام پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 23 اپریل کو جنگ بندی میں تین ہفتے کی توسیع کا اعلان کیا تھا۔ امریکہ نے لبنان کے ساتھ مل کر اس کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کا بھی عندیہ دیا ہے تاکہ حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیوں اور سخت بیانات نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود صورتحال انتہائی نازک ہے اور کسی بھی وقت بڑے تصادم کا خدشہ برقرار ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




