Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نئی دہلی میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 7.35 روپے فی لیٹر اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد دارالحکومت میں پٹرول کی قیمت 94.77 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر 102.12 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس عرصے کے دوران حکومت کی جانب سے چار مختلف مراحل میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر مشرق وسطیٰ کا ایک نقشہ شیئر کیا، جس میں ایران کو امریکی پرچم کے رنگوں میں دکھایا گیا ہے۔ نقشے کے اوپر ’’متحدہ ریاستہائے مشرقِ وسطیٰ‘‘ تحریر کیا گیا ہے۔

آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ مرحلے کی لڑائی میں امریکہ اور اسرائیل نے اپنی پوری طاقت استعمال کی، لیکن ایران نے ابھی اپنی مکمل عسکری صلاحیت استعمال نہیں کی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے باعث خطے میں تناؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

عالمی سطح پر ایندھن کے بحران اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان سکم نے ایک اہم اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی پہلی ایسی ریاست بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں ایندھن کی بچت کے لیے ’آڈ-ایون‘ اسکیم نافذ کر دی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج لبنان پر مسلسل بمباری کر رہی ہے۔ اب تک ان حملوں میں 2,969 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی شامل ہے۔ اسرائیل کے زیادہ تر حملے جنوبی لبنان میں کیے گئے ہیں، جس کے باعث وہاں کے عوام کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے خفیہ طور پر یو اے ای کا دورہ کیا اور وہاں اہم ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

سرکاری تیل کمپنیوں نے صبح 6 بجے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں اپڈیٹ کر دی ہیں۔ جہاں کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ریٹیل ایندھن کے محاذ پر عام آدمی کے لیے کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس کی مکمل معلومات یہاں دیکھیں۔

ایسا مانا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کا مشترکہ جواب نہ دینے کی وجہ سے یو اے ای میں ناراضگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے ایران کے خلاف واضح مؤقف نہ اپنانا بھی ایک وجہ ہے۔