Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

عالمی سطح پر ایندھن کے بحران اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان سکم نے ایک اہم اور منفرد قدم اٹھاتے ہوئے ملک کی پہلی ایسی ریاست بننے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے جہاں ایندھن کی بچت کے لیے ’آڈ-ایون‘ اسکیم نافذ کر دی گئی ہے۔

اسرائیلی فوج لبنان پر مسلسل بمباری کر رہی ہے۔ اب تک ان حملوں میں 2,969 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد بچوں اور خواتین کی شامل ہے۔ اسرائیل کے زیادہ تر حملے جنوبی لبنان میں کیے گئے ہیں، جس کے باعث وہاں کے عوام کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہوئی ہے۔

متحدہ عرب امارات نے ان میڈیا رپورٹس کی تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے خفیہ طور پر یو اے ای کا دورہ کیا اور وہاں اہم ملاقاتیں کیں۔

ذرائع کے مطابق آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر دونوں ممالک کے درمیان ایک باضابطہ معاہدے پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد جنگ کے خاتمے کا باضابطہ اعلان کیا جا سکتا ہے۔ سفارتی حلقوں میں اس پیش رفت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق، 28 فروری کے بعد ایران نے اس علاقے میں اپنی نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔ خاص طور پر ان جہازوں کے لیے پابندیاں بڑھائی گئی ہیں جو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک سمجھے جاتے ہیں۔ یہ اقدامات ایران پر ہونے والے مشترکہ حملوں کے بعد سامنے آئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا۔

سرکاری تیل کمپنیوں نے صبح 6 بجے پٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتیں اپڈیٹ کر دی ہیں۔ جہاں کمرشل سلنڈر کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، وہیں ریٹیل ایندھن کے محاذ پر عام آدمی کے لیے کیا تبدیلیاں ہوئی ہیں، اس کی مکمل معلومات یہاں دیکھیں۔

ایسا مانا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کا مشترکہ جواب نہ دینے کی وجہ سے یو اے ای میں ناراضگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے ایران کے خلاف واضح مؤقف نہ اپنانا بھی ایک وجہ ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق قطر کا فضائی علاقہ جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے اور قطر ایئرویز پہلے ہی بھارت کے متعدد شہروں کے لیے اپنی پروازیں چلا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے ساتھ دیگر ایئرلائنز بھی مرحلہ وار اپنی خدمات بحال کر رہی ہیں۔

جنگ سے قبل عالمی سطح پر تیل اور گیس کی فراہمی نسبتاً مستحکم تھی اور قیمتیں بھی قابو میں تھیں، جس کے باعث کاروباری سرگرمیاں تیزی سے جاری تھیں اور معیشت ترقی کر رہی تھی۔ تاہم موجودہ صورتحال نے اس توازن کو بگاڑ دیا ہے اور عالمی منڈی میں بے یقینی بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اب وہ حالات دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں رہے۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔