Bharat Express DD Free Dish

Middle East conflict

ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔

ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران بھارت کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا خبر سامنے آئی ہے۔ تقریباً سات سال بعد ایران سے خام تیل کی پہلی کھیپ بھارت پہنچنے والی ہے، جسے توانائی سلامتی کے نقطہ نظر سے نہایت اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

محمد صفا نے اپنے پیغام کے ساتھ تہران کی ایک تصویر بھی شیئر کی، جس میں انہوں نے ایٹمی حملے کے ممکنہ نتائج پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے لکھا کہ تہران کوئی خالی صحرا نہیں بلکہ ایک گنجان آباد شہر ہے جہاں لاکھوں خاندان رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی بات کرنے والے اکثر اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ ایسے حملوں سے عام شہری سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

امریکی وزیر دفاع نے یہ بیان پینٹاگون میں پریس بریفنگ کے دوران دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ معاہدے کے لیے تیار ہیں اور ایران کو پہلے ہی امریکی شرائط سے آگاہ کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایران نے سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا تو امریکی فوج اپنی کارروائیوں کو مزید بڑھائے گی اور اہم اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔

ایران نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے درمیان سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو بھی شہری دشمن ممالک کو تصاویر، ویڈیوز یا کسی بھی قسم کی حساس معلومات فراہم کرے گا، اسے سزائے موت دی جا سکتی ہے۔ یہ بیان ایرانی عدلیہ کے ترجمان اصغر جہانگیر کی جانب سے جاری کیا گیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔

ٹرمپ نے یہ بیان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیا، جہاں انہوں نے عالمی توانائی بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے پاس وافر مقدار میں ایندھن موجود ہے۔ انہوں نے لکھا کہ جو ممالک ہرمز کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں دو راستے اختیار کرنے چاہیے۔ پہلا یہ کہ وہ امریکہ سے خریداری کریں اور دوسرا یہ کہ خود آبنائے ہرمز میں جا کر ایندھن حاصل کریں۔

اسپین کی وزیر دفاع نے کہا، "ہم ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کے لیے اپنے ایئر اسپیس اور فوجی اڈوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔" اس موقف کو اسپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورو نے بھی حمایت دی اور کہا کہ اسپین ایسے جنگی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر ضروری اور بغیر وجہ کے شروع کیا جائے۔

ملک میں ممکنہ لاک ڈاؤن سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر مرکزی حکومت نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور معمول کے مطابق زندگی جاری رکھیں۔

آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں جمہوریت کی بہار امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہے، عوامی بغاوت ناگزیر

وزیر اعظم مودی نے جمعہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میٹنگ میں ایندھن کی سپلائی، مہنگائی، لاجسٹکس اور ریاستوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔