نئی دہلی: ملک میں ممکنہ لاک ڈاؤن سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر مرکزی حکومت نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور معمول کے مطابق زندگی جاری رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت نے ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 40 فیصد اضافہ کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔ حکومت کے سینئر وزراء نے الگ الگ بیانات میں کہا کہ ملک میں صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے اور لاک ڈاؤن کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں محض افواہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی پہلے ہی عوام سے گھبرانے سے گریز کرنے کی اپیل کر چکے ہیں اور حکومت حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
اسی طرح پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری نے بھی واضح کیا کہ حکومت کی سطح پر لاک ڈاؤن کے حوالے سے کوئی بات چیت نہیں ہو رہی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں پٹرول، ڈیزل اور گیس کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بھی یقین دہانی کرائی کہ کووڈ-19 جیسا سخت لاک ڈاؤن دوبارہ نافذ نہیں کیا جائے گا اور معیشت کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پیٹرولیم وزارت کے مطابق ملک میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے اور تمام ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ حکومت نے بتایا کہ ایل پی جی کی پیداوار میں تقریباً 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے تاکہ گھریلو استعمال کے لیے گیس کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ حکومت نے یہ بھی کہا کہ ملک کے پاس تقریباً دو ماہ کا خام تیل کا ذخیرہ موجود ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اس صورتحال سے سپلائی چین پر کچھ دباؤ ضرور پڑا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اندرونی حالات مکمل طور پر کنٹرول میں ہیں۔ حکومت نے یقین دلایا کہ قیمتوں اور فراہمی دونوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ حکومت نے کمرشل گیس سپلائی کو بھی مرحلہ وار بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریسٹورنٹس اور ڈھابوں کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو کھانے پینے کی سہولت میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ اور ضروری خدمات کو بھی ترجیحی بنیادوں پر ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔
ادھر افواہوں کے باعث بعض علاقوں میں پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں۔ حکومت نے واضح کیا کہ پٹرول، ڈیزل اور گیس کی وافر مقدار دستیاب ہے اور کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ غیر ضروری خریداری سے گریز کریں۔ حکومت نے دفاعی وزیر راج ناتھ سنگھ کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی ہے جو مشرق وسطیٰ کے حالات پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی بھی ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ میٹنگ کر کے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



