Defence Expert PK Sehgal On Hormuz Strait: آبنائے ہرمز کھلے یا نہ کھلے، سب سے زیادہ نقصان بھارت کو ہوگا: دفاعی ماہر پی کے سہگل
پی کے سہگل نے کہا کہ چاہے آبنائے ہرمز کھلی رہے یا بند ہو جائے، آنے والا وقت پوری دنیا کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتا ہے، تاہم بھارت کو طویل مدت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ان کے مطابق ایران میں حالیہ تنازعات کے باعث بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے، جہاں ریفائنریاں، پائپ لائنیں اور بندرگاہیں تباہی کا شکار ہو چکی ہیں۔
Indian Ship Jag Vikram: باورچی خانے کی گیس پر نہیں آئے گا بحران، 20 ہزار ٹن ایل پی جی لے کر آبنائے ہرمز سے نکلا بھارتی جہاز ’جگ وکرم‘
وزارت پیٹرولیم کے مطابق مارچ کے آغاز سے اب تک یہ نواں بھارتی جہاز ہے جو اس حساس راستے سے کامیابی کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس سے قبل کئی جہازوں کو انتظار کرنا پڑا تھا، تاہم حالات میں جزوی بہتری کے بعد اب رفتہ رفتہ نقل و حمل بحال ہو رہی ہے۔
Four Lakh PNG Connections: ایل پی جی کی سپلائی معمول پر، 4 لاکھ سے زائد پی این جی کنکشن شروع، مرکز کی وضاحت اور شہریوں کے لیے ہدایات
سرکاری بیان کے مطابق ملک میں اب تک 4.05 لاکھ پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشنز فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 4.41 لاکھ صارفین نئے پی این جی کنکشن کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی این جی کے فروغ سے نہ صرف توانائی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ شہری علاقوں میں سہولت بھی بڑھے گی۔
West Asia Conflict: مغربی ایشیا کشیدگی: ملک میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں، مرکزی حکومت ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار
وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود ملک میں توانائی کی فراہمی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے متعدد سطحوں پر تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مختلف متعلقہ وزارتیں اور ادارے باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ توانائی، سمندری نقل و حمل اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
LPG Gas Rumors: ایل پی جی سے متعلق افواہوں پر حکومت سخت، ریاستوں کو فوری کنٹرول کے احکامات
وزارت پیٹرولیم کے سکریٹری ڈاکٹر نیرج متل نے تمام ریاستوں کے چیف سیکریٹریز کو خط لکھ کر کہا ہے کہ غلط معلومات کے باعث کئی علاقوں میں لوگ غیر ضروری طور پر گیس سلنڈر خرید رہے ہیں، جس سے سپلائی چین پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومتیں فوری طور پر عوام کو درست معلومات فراہم کریں اور افواہوں کو روکنے کے لیے فعال کردار ادا کریں۔
Delhi Price Hike: دہلی میں پریمیم پٹرول، ڈیزل اور کمرشل سلنڈر کے دام میں اضافہ، جانیے ایندھن کی قیمتوں میں کتنا ہوا اضافہ؟
دہلی میں پریمیم پٹرول XP100 کی قیمت 160 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جبکہ ایکسٹرا گرین ڈیزل بھی مہنگا ہو گیا ہے۔ کمرشل ایل پی جی سلنڈر 196 روپے مہنگا ہو گیا، جبکہ گھریلو گیس کی قیمتوں میں دو ہفتہ قبل ہی اضافہ کیا گیا تھا۔
India Lockdown News: لاک ڈاؤن کی افواہوں پر بریک! حکومت نے کہا- گھبرانے کی ضرورت نہیں، ایل پی جی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ
ملک میں ممکنہ لاک ڈاؤن سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر مرکزی حکومت نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور معمول کے مطابق زندگی جاری رکھیں۔
Lakhimpur Kheri Petrol Panic: لکھیم پور کھیری میں پٹرول اور ڈیزل کو لے کر ہنگامہ، افواہوں کے چلتے پٹرول پمپوں پر لمبی قطاریں، انتظامیہ کی سخت وارننگ
پٹرول پمپ مالکان اور ملازمین نے بتایا کہ ایندھن کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف گھبراہٹ میں خریداری کا ہے۔ پہلے جو صارف کم مقدار میں پٹرول لیتے تھے، وہ اب زیادہ مقدار میں خریداری کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اچانک مانگ بڑھ گئی ہے اور پٹرول پمپوں پر بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔
CM Omar Abdullah On Fuel Gas Rumors: افواہوں پر یقین نہ کریں، ایندھن کی کوئی کمی نہیں: وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی سخت وارننگ
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر میں پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی کوئی کمی نہیں ہے اور عوام کو گھبراہٹ میں آ کر پٹرول پمپوں یا گیس ایجنسیوں پر غیر ضروری بھیڑ نہیں لگانی چاہیے۔
Centre Notifies Order To Strengthen Piped Natural Gas Infrastructure: قدرتی گیس انفراسٹرکچر کے فروغ اور پی این جی کی رسائی بہتر بنانے کے لیے مرکز کا نیا حکم جاری
یہ حکم وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد پائپ لائن بچھانے اور ان کی توسیع کے لیے ایک سادہ اور وقت بند فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے منظوری میں تاخیر، زمین تک رسائی میں مشکلات اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جس سے رہائشی علاقوں میں قدرتی گیس کا نیٹ ورک تیزی سے پھیل سکے گا۔





