Bharat Express DD Free Dish

Four Lakh PNG Connections: ایل پی جی کی سپلائی معمول پر، 4 لاکھ سے زائد پی این جی کنکشن شروع، مرکز کی وضاحت اور شہریوں کے لیے ہدایات

سرکاری بیان کے مطابق ملک میں اب تک 4.05 لاکھ پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشنز فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 4.41 لاکھ صارفین نئے پی این جی کنکشن کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی این جی کے فروغ سے نہ صرف توانائی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ شہری علاقوں میں سہولت بھی بڑھے گی۔

نئی دہلی: مرکزی حکومت نے جمعہ کے روز واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں ایل پی جی (مائع پیٹرولیم گیس) کی سپلائی مکمل طور پر معمول پر ہے اور کسی بھی ڈسٹری بیوٹر کے پاس گیس کی قلت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور غیر ضروری ذخیرہ اندوزی سے گریز کریں۔ سرکاری بیان کے مطابق ملک میں اب تک 4.05 لاکھ پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشنز فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 4.41 لاکھ صارفین نئے پی این جی کنکشن کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی این جی کے فروغ سے نہ صرف توانائی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ شہری علاقوں میں سہولت بھی بڑھے گی۔

حکومت نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی جلد بازی میں خریداری سے بچیں اور معلومات کے لیے صرف سرکاری ذرائع پر ہی اعتماد کریں۔ ایل پی جی صارفین سے خاص طور پر کہا گیا ہے کہ وہ گیس کی بکنگ کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال کریں اور بلا ضرورت ڈسٹری بیوٹرز کے پاس جانے سے گریز کریں۔ اعداد و شمار کے مطابق ایل پی جی کی کل بکنگ میں آن لائن بکنگ کا حصہ بڑھ کر 98 فیصد ہو چکا ہے، جو ڈیجیٹل نظام پر عوام کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی گیس کی ترسیل میں شفافیت برقرار رکھنے کے لیے ڈیلیوری آتھنٹیکیشن کوڈ (ڈی اے سی) کے ذریعے ہونے والی ترسیل کا تناسب 92 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس سے بے ضابطگیوں کو روکنے میں مدد مل رہی ہے۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ عالمی جغرافیائی سیاسی حالات کے باوجود گھریلو ایل پی جی اور پی این جی کی فراہمی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ خاص طور پر اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کو گیس کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کے خلاف ملک بھر میں سخت کارروائیاں جاری ہیں۔ صرف جمعرات کے روز ہی مختلف ریاستوں میں 3,800 سے زائد چھاپے مارے گئے، جن کے دوران تقریباً 450 سلنڈر ضبط کیے گئے۔ حکام کے مطابق اب تک مجموعی طور پر تقریباً 1.2 لاکھ چھاپے مارے جا چکے ہیں، جن میں 57 ہزار سے زیادہ سلنڈرز ضبط کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ 950 سے زائد ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 229 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ سرکاری تیل مارکیٹنگ کمپنیوں نے بھی نگرانی سخت کر دی ہے اور 2,100 سے زائد شوکاز نوٹس جاری کیے ہیں۔ مزید برآں، 204 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز پر جرمانے عائد کیے گئے ہیں جبکہ 53 کو معطل کر دیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک کی تمام ریفائنریز پوری صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا مناسب ذخیرہ موجود ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی بھی وافر مقدار دستیاب ہے، جبکہ گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایل پی جی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read