Bharat Express DD Free Dish

LPG Cylinder

ستمبر میں گیس سلنڈر کی قیمتوں کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو اس میں اتار چڑھاؤ نظر آتا ہے۔ انڈین آئل کارپوریشن (آئی او سی ایل) کے 2014 سے 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر کا مہینہ کئی بار صارفین کے لیے راحت لے کر آیا، جبکہ بعض مواقع پر قیمتوں میں نمایاں اضافہ بھی ہوا۔

پائپ لائن بچھانے، سڑکوں کی کھدائی، مقامی اجازت ناموں اور دیگر انتظامی امور کے لیے ریاستی اداروں کے ساتھ مؤثر تال میل ضروری ہوتا ہے۔ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ضروری منظوریوں کے عمل کو آسان اور تیز بنائیں تاکہ گیس تقسیم کرنے والی کمپنیوں کو بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں غیر ضروری تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

دہلی میں گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی نئی قیمتیں آج یعنی 7 جون سے نافذ ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل یکم جون کو 19 کلوگرام والے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا تھا۔ تیل کمپنیوں نے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 42 روپے کا اضافہ کیا تھا۔

صرف گیس ہی نہیں بلکہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھی حالیہ دنوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ پٹرول کی قیمت میں مجموعی طور پر 7.35 روپے فی لیٹر جب کہ ڈیزل کی قیمت میں 7.53 روپے فی لیٹر کا اضافہ کیا جا چکا ہے۔

ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے صدر جے پرکاش تیواری کی جانب سے دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس نظام کی وجہ سے متعدد عملی دشواریاں سامنے آ رہی ہیں۔ ان کے مطابق ہر صارف کے پاس موبائل فون موجود نہیں ہوتا،

بنیادی وجہ 19 کلوگرام والے کمرشل گیس سلنڈر کی قیمتوں میں تیز اضافہ ہے۔ گزشتہ کچھ مہینوں میں ان کی قیمتیں دوگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں، جس کا سب سے زیادہ اثر ہاسٹل کی کچن پر پڑا ہے جہاں بڑے پیمانے پر کھانا تیار کیا جاتا ہے۔گیس کی قلت نے بھی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ گھریلو ایل پی جی، پی این جی اور سی این جی کی 100 فیصد سپلائی برقرار رکھی جا رہی ہے۔ کمرشل ایل پی جی میں اسپتالوں، تعلیمی اداروں، فارما، اسٹیل اور زرعی شعبوں کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

فوڈ ڈسٹری بیوشن اینڈ سول سپلائیزکے ڈائرکٹر، کنٹرولرجنرل چندرکانت ڈانگے کوموصول ہونے والی ایک مخصوص اطلاع کی بنیاد پریہ چھاپہ مارا گیا۔ یہ چھاپہ گنیش بیلّاٹے، مادھوری شندے اورپردیپ یادو کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم نے مارا تھا۔

سرکاری بیان کے مطابق ملک میں اب تک 4.05 لاکھ پی این جی (پائپڈ نیچرل گیس) کنکشنز فعال کیے جا چکے ہیں، جبکہ مزید 4.41 لاکھ صارفین نئے پی این جی کنکشن کے لیے درخواست دے چکے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ پی این جی کے فروغ سے نہ صرف توانائی کی دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ شہری علاقوں میں سہولت بھی بڑھے گی۔

حکومت کے مطابق اب تک 1.16 لاکھ سے زائد چھاپے مارے جا چکے ہیں، جن کے دوران تقریباً 53 ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔ پٹرولیم و قدرتی گیس کی وزارت (بھارت) کے مطابق اب زراعت، یورینیم، ہیوی واٹر، فارما اور پینٹ صنعتوں کو بھی گیس فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔