Bharat Express DD Free Dish

LPG Gas Cylinder Shortage

بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ سپلائی چین بغیر کسی رکاوٹ کے معمول کے مطابق چل رہی ہے اور صارفین کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی ”لال ٹوپی اور لال سلنڈر“ سے ڈرتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج ایل پی جی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے اور لوگ اسے ”لاپتہ گیس“ کہنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے چوری چھپے بوجھ ڈالا، پھر 14 کلو کے سلنڈر کو 10 کلو تک محدود کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام سے کہا جائے کہ اپنی روٹی کا سائز بھی چھوٹا کر دیں۔

مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سبب پیدا ہونے والے ایل پی جی بحران کے درمیان دہلی میں سلنڈروں کی کالا بازی کا انکشاف ہوا ہے۔ بھارت ایکسپریس کی ٹیم نے مبینہ طور پر ایک مشکوک گاڑی پکڑی جس سے گھریلو اور صنعتی سلنڈروں کو بلیک مارکیٹ میں فروخت کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔

ستنا شہر میں گھریلو اور کمرشل گیس سلنڈروں کی کمی کا اثر ضلع اسپتال تک پہنچ گیا ہے۔ سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے مریضوں کے لیے کھانا لکڑی کے چولہے پر تیار کیا جا رہا ہے، جس کے باعث وقت پر کھانا فراہم کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

اڈانی ٹوٹل گیس لمیٹڈ نے اتوار کو اعلان کیا کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث جاری سپلائی رکاوٹوں کے درمیان اپسٹریم گیس کی قیمتوں میں کمی کے بعد کمپنی نے کچھ صنعتی صارفین کو فراہم کی جانے والی اضافی قدرتی گیس کی قیمت کم کر دی ہے۔

چوری کی اس انوکھی اور حیران کن صورتحال کے بعد خاتون نے اپنے نئے سلنڈر کی حفاظت کے لیے غیر معمولی تدبیر اختیار کی۔ انہوں نے سلنڈر کو موٹی لوہے کی زنجیر سے جکڑ دیا اور اس پر بھاری تالا لگا دیا۔ خاتون کے مطابق اب صرف جب کھانا بنانا ہوتا ہے، تب وہ تالا کھولتی ہیں، ورنہ سلنڈر زنجیر سے جکڑا رہتا ہے۔

جمعرات کے روز چھتیس گڑھ اسمبلی میں ایل پی جی سلنڈر کی قلت اور مبینہ بلیک مارکیٹنگ کے معاملے پر زبردست ہنگامہ دیکھنے کو ملا۔ کانگریس کے رکن اسمبلی انل بھیڑیا نے اس مسئلے پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ وزیر کیدار کشیپ نے کہا کہ ریاست میں گیس کی کوئی کمی نہیں ہے۔

حالیہ دنوں میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ نے آبنائے ہرمز کو عالمی سطح پر ایک حساس اور خطرناک سمندری راستہ بنا دیا ہے۔ کئی ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنانے کی خبریں بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد عالمی توانائی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا۔ ایسے حالات میں بھارتی ٹینکر کا اس راستے سے محفوظ گزر کر ممبئی پہنچ جانا ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ٹرک بھارت پیٹرولیم کارپوریشن کے کری پلانٹ سے منسلک تھا اور 2 مارچ کو 524 ایل پی جی سلنڈرز کانپور دیہات کے گجنیر پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ٹرک میں سلنڈر لوڈ ہونے کے بعد ڈرائیور گھر چلا گیا تاکہ ہولی کی خوشیوں میں شامل ہو سکے۔ اسی دوران نامعلوم چوروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرک چوری کرلی۔

پونے میں زیر تعلیم طلباء کا کہنا ہے کہ میس اور سستے ہوٹل بند ہونے سے ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو گئی ہے۔ بہت سے طلبہ کھانے کے لیے انہی میسوں پر انحصار کرتے تھے جہاں مناسب قیمت پر دو وقت کا کھانا مل جاتا تھا۔ اب انہیں یا تو مہنگے ریستورانوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے یا پھر کئی بار ایک وقت کا کھانا چھوڑنا پڑتا ہے۔