امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے اثرات اب بھارت میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ توانائی کی سپلائی اور عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ بڑھنے سے کئی شہروں میں ایل پی جی گیس سلنڈروں کی کمی پیدا ہو گئی ہے۔ اس صورتحال نے روزمرہ زندگی کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے اور خاص طور پر تعلیمی شہروں میں اس کے سنگین نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ پونے جو ریاست مہاراشٹر کا ایک بڑا تعلیمی مرکز سمجھا جاتا ہے، اس بحران سے سب سے زیادہ متاثر دکھائی دے رہا ہے۔ یہاں ملک کے مختلف حصوں سے ہزاروں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے آتے ہیں اور زیادہ تر کرائے کے کمروں یا ہاسٹلوں میں رہتے ہیں۔ گیس سلنڈر کی سپلائی متاثر ہونے کے بعد شہر کے درجنوں چھوٹے ہوٹلوں اور طلبہ میس کے لیے روزانہ کھانا تیار کرنا مشکل ہو گیا ہے۔
متعدد میس اور ہوٹل مالکان کا کہنا ہے کہ گیس کی باقاعدہ فراہمی کے بغیر کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔ کئی مقامات پر مالکان نے عارضی طور پر اپنے باورچی خانے بند کر دیے ہیں کیونکہ محدود گیس کے ساتھ ہزاروں طلبہ کو کھانا فراہم کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ کچھ ہوٹلوں نے صرف چند گھنٹوں کے لیے محدود مینو کے ساتھ سروس دینے کی کوشش کی، مگر وہ بھی زیادہ دیر تک جاری نہیں رہ سکی۔
پونے میں زیر تعلیم طلبہ کا کہنا ہے کہ میس اور سستے ہوٹل بند ہونے سے ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو گئی ہے۔ بہت سے طلبہ کھانے کے لیے انہی میسوں پر انحصار کرتے تھے جہاں مناسب قیمت پر دو وقت کا کھانا مل جاتا تھا۔ اب انہیں یا تو مہنگے ریستورانوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے یا پھر کئی بار ایک وقت کا کھانا چھوڑنا پڑتا ہے۔ کئی طلبہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر یہ بحران طویل ہو گیا تو ان کے لیے پونے میں رہ کر تعلیم جاری رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ بعض طلبہ اپنے آبائی شہروں کو واپس جانے پر غور کر رہے ہیں کیونکہ مناسب خوراک کے بغیر پڑھائی پر توجہ مرکوز کرنا آسان نہیں۔ طلبہ تنظیموں نے مقامی انتظامیہ سے فوری مداخلت اور متبادل انتظامات کی اپیل بھی کی ہے۔
ادھر ہوٹل اور میس چلانے والے افراد کا کہنا ہے کہ اگر گیس سلنڈروں کی سپلائی جلد بحال نہ ہوئی تو نہ صرف طلبہ بلکہ ان کا کاروبار بھی شدید متاثر ہوگا۔ ان کے مطابق کئی چھوٹے ہوٹل مکمل طور پر طلبہ پر منحصر ہیں اور طویل بندش کی صورت میں انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کشیدگی کے باعث توانائی کی عالمی سپلائی متاثر ہونے سے ایسے مقامی بحران پیدا ہو سکتے ہیں۔ اگر حالات جلد معمول پر نہ آئے تو دیگر تعلیمی شہروں میں بھی اسی طرح کی مشکلات سامنے آ سکتی ہیں، اس لیے حکومت اور توانائی کمپنیوں کو اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ طلبہ کو ریلیف مل سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

