Baby Girl Born After 200 Years: دو سو سال بعد گھر میں گونجی بیٹی کی کلکاری، چاندی کے رتھ پر نکلی گارگی کی شاہی سواری، دیکھیے ویڈیو
مہاراشٹر کے بیڑ ضلع سے سامنے آنے والی ایک تصویر ان دنوں لوگوں کے دل جیت رہی ہے۔ وجہ ہے ایک نومولود بچی، جس کا اس کے خاندان نے اس انداز میں استقبال کیا کہ دیکھنے والے بھی جذباتی ہو گئے۔ بیڑ کے دھیفلے خاندان میں تقریباً 200 سال بعد بیٹی کی پیدائش ہوئی ہے۔ خاندان کے لیے یہ صرف ایک بچی کی آمد کی خوشی نہیں بلکہ کئی نسلوں سے جاری انتظار کے ختم ہونے کا موقع بھی ہے۔
Barefoot Mother’s Race For Her Daughters: بیٹیوں کی تعلیم کے لیے ننگے پاؤں دوڑی ماں، ہندوستان میں تعلیم کے مسائل اجاگر کرتی ہے جدوجہد کی یہ کہانی
مہاراشٹر کی 47 سالہ خاتون نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے کے لیے انعامی رقم حاصل کرنے کی غرض سے 3 کلومیٹر کی دوڑ میں ننگے پاؤں حصہ لیا۔ ان کی یہ کوشش والدین کی عزم و ہمت کی مثال بن گئی ہے۔
Nida Khan Granted Bail: ٹی سی ایس تبدیلی مذہب کے معاملے میں ندا خان کو ضمانت، 50 ہزار روپے کے بانڈ پر ملی رہائی
ممبئی ناکا پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں عدالت نے ندا خان کو 50 ہزار روپے کے بانڈ پر ضمانت دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہیں باقاعدگی سے پولیس اسٹیشن میں حاضری لگانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ مقدمے کی تفتیش کے دوران ندا خان کو وقتاً فوقتاً پولیس کے سامنے پیش ہونا ہوگا۔
Maharashtra Flood HPCL 3000 LPG Cylinders: بہتی ندی میں بہہ گئے 3000 گیس سلینڈر، مہاراشٹر کے رائے گڑھ میں لوٹنے کے لئے لگ گئی لائن، ویڈیو وائرل ہونے پر انتظامیہ نے اٹھایا بڑا قدم
مہاراشٹر کے رائے گڑھ میں زبردست بارش کے درمیان ایچ پی سی ایل پلانٹ سے تقریباً 3000 ایل پی جی سلینڈر پاتال گنگا ندی میں بہہ گئے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد لوگ سلینڈر نکالنے پہنچے، جبکہ انتظامیہ نے فوراً جمع کرانے کی اپیل کی۔
Building collapses in Pune: پونے کے پمپری چنچواڑ حادثے میں این ڈی آر ایف نے 6 افراد کو بحفاظت نکالا، شدید بارش کے بعد تین منزلہ عمارت پر گرا تھا کچرے کا بڑا ڈھیر
پمپری چنچواڑ کے میئر نے بتایا کہ شہر میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث پانی کی سطح میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں کچرے کا بڑا حصہ دفتر کی عمارت پر گر گیا اور کنکریٹ کی چھت منہدم ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ حادثے کے وقت دفتر کے تقریباً 16 ملازمین کھانا کھا رہے تھے۔
Amit Shah Assures Centre’s Support: شدید بارش کے پیش نظر امت شاہ نے مہاراشٹر، گجرات اور جموں و کشمیر کے وزرائے اعلیٰ سے کی بات، ہرممکن مرکزی تعاون کا دلایا یقین
مہاراشٹر اور گجرات کے مختلف علاقوں میں مسلسل موسلا دھار بارش کے باعث معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور ٹریفک کی بندش کے درمیان مرکزی حکومت نے صورتحال کا لیا جائزہ لیا اور وزیرداخلہ نے وزرائے اعلیٰ سے فون پر گفتگو کرکے ہر ممکن مدد کا یقین دلایا ہے۔
Building Collapses: مہاراشٹر کے پمپری چنچواڑ میں عمارت منہدم، متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ، ریسکیو آپریشن شروع
حادثے کی اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کے اہلکار اور دیگر ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور ملبہ ہٹانے کے ساتھ پھنسے ہوئے افراد کو نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
Maharashtra Heavy Rain Flood Situation: وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے بات کی، مرکز نے ہر ممکن مدد کی کرائی یقین دہانی
مہاراشٹر میں شدید بارش کے بعد پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس سے فون پر بات کی اور ہر ممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ پالگھر میں ایک ڈیم کے اوور فلو ہونے سے دریاؤں میں طغیانی آ گئی ہے، جبکہ نوی ممبئی کی اے پی ایم سی منڈی اور کولہاپور کے 54 بیراج زیرِ آب آ چکے ہیں۔
Maharashtra CM Fadnavis: سی ایم فڑنویس کی ہدایت پر پمپری-چنچواڑ پولیس کمشنریٹ کے لیے 50 ایکڑ مختص؛ جانئے کہا بنایا جائے گاگرینڈ ہیڈ کوارٹر اور پریڈ گراؤنڈ ؟
حکومت کا ماننا ہے کہ اس زمین کے حصول سے پنپری-چنچوڑ میں پولیس بنیادی ڈھانچے کی توسیع تیزی سے ممکن ہو سکے گی۔ جدید ہیڈکوارٹر، تربیتی میدان اور دیگر سہولیات کے قیام سے نہ صرف پولیس انتظامیہ کی کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ شہر میں قانون و انتظام کی صورتحال کو مزید مستحکم اور جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی مدد ملے گی۔
Education Crisis in Digital India: بھنڈارا میں تعلیم کا ’بیڑا غرق‘: 50 اسکولوں میں ایک بھی استاد نہیں، برباد ہو رہا ہے معصوم بچوں کا مستقبل
مہاراشٹر کے ضلع بھنڈارا میں تعلیمی نظام پوری طرح سے درہم برہم ہو چکا ہے۔ ضلع کے 50 ضلع پریشد اسکول ایسے ہیں جہاں ایک بھی استاد تعینات نہیں، جبکہ پورے ضلع میں تقریباً 800 اساتذہ کی شدید کمی ہے۔ ایسے میں مودی حکومت کی ’ڈیجیٹل انڈیا‘ اور معیاری تعلیم کے دعووں کی زمینی حقیقت نہایت تشویشناک نظر آتی ہے۔





