Bharat Express DD Free Dish

Gas Cylinder Crisis

پی این جی (PNG) کنکشن لینے والے صارفین کے لیے حکومت نے نیا ضابطہ نافذ کر دیا ہے۔ اب ایسے صارفین کو 30 دن کے اندر اپنا ایل پی جی (LPG) کنکشن سرینڈر کرنا ہوگا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ڈپلیکیٹ کنکشنز کا خاتمہ ہوگا اور گیس کی تقسیم کا نظام مزید مؤثر اور شفاف بن سکے گا۔

پٹرول پمپ مالکان اور ملازمین نے بتایا کہ ایندھن کی سپلائی معمول کے مطابق جاری ہے اور کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف گھبراہٹ میں خریداری کا ہے۔ پہلے جو صارف کم مقدار میں پٹرول لیتے تھے، وہ اب زیادہ مقدار میں خریداری کر رہے ہیں، جس کی وجہ سے اچانک مانگ بڑھ گئی ہے اور پٹرول پمپوں پر بھیڑ جمع ہو رہی ہے۔

یہ حکم وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کے ذریعے نافذ کیا گیا ہے، جس کا مقصد پائپ لائن بچھانے اور ان کی توسیع کے لیے ایک سادہ اور وقت بند فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام سے منظوری میں تاخیر، زمین تک رسائی میں مشکلات اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے میں مدد ملے گی، جس سے رہائشی علاقوں میں قدرتی گیس کا نیٹ ورک تیزی سے پھیل سکے گا۔

بھارت پٹرولیم کارپوریشن لمیٹڈ (بی پی سی ایل) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی کوئی کمی نہیں ہے۔ کمپنی نے واضح کیا کہ سپلائی چین بغیر کسی رکاوٹ کے معمول کے مطابق چل رہی ہے اور صارفین کو گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی ”لال ٹوپی اور لال سلنڈر“ سے ڈرتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج ایل پی جی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے اور لوگ اسے ”لاپتہ گیس“ کہنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے چوری چھپے بوجھ ڈالا، پھر 14 کلو کے سلنڈر کو 10 کلو تک محدود کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام سے کہا جائے کہ اپنی روٹی کا سائز بھی چھوٹا کر دیں۔

ایران-اسرائیل جنگ سے پیدا ہوئے ایل پی جی بحران کے درمیان ممبئی کے ورلی میں گیس سلینڈر کی کالابازاری کا پردہ فاش ہوا ہے۔ راشن ڈسٹری بیوشن ڈپارٹمنٹ نے رہائشی علاقے میں خطرناک طریقے سے غیر قانونی طورپرذخیرہ کئے گئے سینکڑوں بھرے اورخالی سلنڈر ضبط کئے۔

اطلاعات کے مطابق یہ ٹرک بھارت پیٹرولیم کارپوریشن کے کری پلانٹ سے منسلک تھا اور 2 مارچ کو 524 ایل پی جی سلنڈرز کانپور دیہات کے گجنیر پہنچانے کے لیے روانہ ہوا تھا۔ ٹرک میں سلنڈر لوڈ ہونے کے بعد ڈرائیور گھر چلا گیا تاکہ ہولی کی خوشیوں میں شامل ہو سکے۔ اسی دوران نامعلوم چوروں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرک چوری کرلی۔

سرکاری تیل کمپنیوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی ایل پی جی کی فراہمی جاری رکھی جا رہی ہے۔ تاہم وزارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے ہر شکایت کا فوری حل ممکن نہیں ہو سکتا۔

پونے میں زیر تعلیم طلباء کا کہنا ہے کہ میس اور سستے ہوٹل بند ہونے سے ان کی روزمرہ زندگی شدید متاثر ہو گئی ہے۔ بہت سے طلبہ کھانے کے لیے انہی میسوں پر انحصار کرتے تھے جہاں مناسب قیمت پر دو وقت کا کھانا مل جاتا تھا۔ اب انہیں یا تو مہنگے ریستورانوں کا رخ کرنا پڑ رہا ہے یا پھر کئی بار ایک وقت کا کھانا چھوڑنا پڑتا ہے۔