مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے اثرات کے باعث بھارت میں ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کی خبریں سامنے آنے کے بعد مرکزی حکومت حرکت میں آ گئی ہے۔ حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور کالا بازاری کو روکنے کے لیے سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی ہر حال میں ترجیح دی جائے گی۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں گھریلو گیس کی سپلائی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے متعدد پالیسی فیصلے فوری طور پر نافذ کیے جا رہے ہیں۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ ضروری خدمات کی بحالی کے لیے بعض علاقوں میں ای ایس ایم اے یعنی ایسنشل سروسز مینٹیننس ایکٹ کو نافذ کیا گیا ہے تاکہ ایل پی جی کی سپلائی میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مصنوعی قلت پیدا کرنے کی کوششوں کو روکا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور غیر قانونی فروخت میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
مرکزی حکومت نے اس بحران سے نمٹنے کے لیے چھ اہم فیصلے بھی کیے ہیں۔ ان کے تحت ملک کی تمام ریفائنری اور پیٹروکیمیکل یونٹوں کو گھریلو رسوئی گیس کی بلا تعطل سپلائی یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ سرکاری اور نجی دونوں طرح کی ریفائنریوں کو ایل پی جی کی پیداوار زیادہ سے زیادہ سطح تک بڑھانے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مارکیٹ میں دستیابی برقرار رکھی جا سکے۔ اسی کے ساتھ حکومت نے گھریلو سلنڈر کی بکنگ کے درمیان وقفہ 21 دن سے بڑھا کر 25 دن کر دیا ہے تاکہ گیس کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے اور غیر ضروری بکنگ پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے علاوہ گھریلو ایل پی جی، پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) اور سی این جی کو ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
حکومت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اضافی طور پر پیدا ہونے والی ایل پی جی صرف سرکاری تیل کمپنیوں — انڈین آئل کارپوریشن، بھارت پٹرولیم اور ہندوستان پٹرولیم — کو ہی فروخت کی جائے گی تاکہ سپلائی کے نظام کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے اور عام صارفین تک گیس بروقت پہنچ سکے۔ دوسری جانب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث ہوٹل اور ریستوراں صنعت میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ کئی شہروں میں 19 کلوگرام والے نیلے رنگ کے سلنڈروں کی قلت کی شکایات سامنے آئی ہیں جو عموماً ہوٹلوں اور ریستورانوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پٹرولیم وزارت نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی ہے جو مختلف شہروں میں سپلائی کی صورتحال کا جائزہ لے گی اور حقیقی ضرورت کے مطابق گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔
پٹرولیم وزارت کے مطابق یہ کمیٹی موصول ہونے والی شکایات کا تفصیلی جائزہ لے گی اور جہاں ضرورت ہوگی وہاں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ وزارت نے یہ بھی کہا ہے کہ گھریلو صارفین کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس حوالے سے سپلائی میں کسی بڑے خلل کی اطلاع نہیں ہے۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے بھی سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ اسپتالوں اور اسکولوں کو بھی ایل پی جی کی فراہمی جاری رکھی جا رہی ہے۔ تاہم وزارت نے یہ تسلیم کیا ہے کہ کمرشل ایل پی جی کی سپلائی بڑی حد تک درآمدات پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے ہر شکایت کا فوری حل ممکن نہیں ہو سکتا۔ حکومت اور تیل کمپنیوں کی مشترکہ کوششوں سے توقع کی جا رہی ہے کہ ایل پی جی کی سپلائی جلد مستحکم ہو جائے گی اور گھریلو صارفین کو کسی بڑے بحران کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ ساتھ ہی ہوٹل اور ریستوراں صنعت کے مسائل کو حل کرنے کے لیے قائم کمیٹی مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


