نئی دہلی: سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے ایل پی جی قیمتوں، خارجہ پالیسی اور ملک میں قانون و نظم کی صورتحال پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہا کہ عام آدمی گیس سلنڈر کے مسئلے سے شدید پریشان ہے، جبکہ حکومت خود کو ”وشو گرو“ قرار دینے میں مصروف ہے۔
گیس بحران پر سخت تبصرہ
اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی ”لال ٹوپی اور لال سلنڈر“ سے ڈرتی ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ آج ایل پی جی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکی ہے اور لوگ اسے ”لاپتہ گیس“ کہنے لگے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے چوری چھپے بوجھ ڈالا، پھر 14 کلو کے سلنڈر کو 10 کلو تک محدود کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام سے کہا جائے کہ اپنی روٹی کا سائز بھی چھوٹا کر دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی اور ایندھن کی بڑھتی قیمتوں نے متوسط اور غریب طبقے کی زندگی کو مشکل بنا دیا ہے، لیکن حکومت ان مسائل پر سنجیدگی سے توجہ دینے کے بجائے دعوؤں میں مصروف ہے۔
خارجہ پالیسی پر سوالات
ایران-امریکہ کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ ملک کے عوام کو یہ خواب دکھایا گیا تھا کہ بھارت ”وشو گرو“ بنے گا، لیکن اگر ایسا ہے تو بھارت کو جنگ روکنے میں کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ ”اگر واقعی عالمی قیادت کا دعویٰ ہے تو پھر یہ جنگ کیوں نہ رک سکی“؟ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے کہا کہ غیر متوقع دوروں اور بغیر تیاری کے اقدامات سے خارجہ پالیسی کمزور نظر آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی سطح پر مضبوط تعلقات ہوتے تو بھارت کو جنگ روکنے میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تھا۔
سیاسی ماحول اور اپوزیشن کا موقف
اکھلیش یادو نے اس بیان پر بھی ردعمل دیا جس میں کہا گیا تھا کہ جنگ کے وقت کچھ لوگ سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ الزام صرف اپوزیشن پر کیوں لگایا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے لیڈروں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانا اور سرکاری اداروں کے ذریعے دباؤ ڈالنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر حکومت انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے تو اپوزیشن سے خاموش رہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
قانون و نظم اور داخلی مسائل
اکھلیش یادو نے وارانسی میں پیش آئے ایک قتل کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس شہر کو ”کیوٹو“ بنانے کا وعدہ کیا گیا تھا، وہاں طلبہ کے ساتھ تشدد کے واقعات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں امن و امان کی صورتحال بھی تشویشناک ہے اور حکومت کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔
حکومتی پالیسیوں پر مجموعی تنقید
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت واقعی مضبوط خارجہ پالیسی رکھتی ہے تو اسے عالمی مسائل میں واضح موقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، اگر امریکہ جیسے ممالک دباؤ ڈالیں تو بھارت کو بھی اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے کرنے چاہئیں۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ اپوزیشن ملک کے مفاد میں ہر مثبت قدم کی حمایت کرے گی، لیکن محض دعوؤں اور نعروں کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ حالات میں پالیسی سازی پر بیرونی اثرات بڑھتے جا رہے ہیں، جو ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


