Bharat Express DD Free Dish

West Asia Conflict: مغربی ایشیا کشیدگی: ملک میں ایندھن کی کوئی کمی نہیں، مرکزی حکومت ہر صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار

وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود ملک میں توانائی کی فراہمی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے متعدد سطحوں پر تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مختلف متعلقہ وزارتیں اور ادارے باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ توانائی، سمندری نقل و حمل اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگی حالات کے پیش نظر حکومت ہند نے ملک کے عوام کو یقین دلایا ہے کہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی سمیت تمام پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی معمول کے مطابق جاری ہے اور گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں اور سپلائی چین کو برقرار رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ شہریوں کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود ملک میں توانائی کی فراہمی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے متعدد سطحوں پر تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مختلف متعلقہ وزارتیں اور ادارے باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ توانائی، سمندری نقل و حمل اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

حکومت نے خاص طور پر آبنائے ہرمز کے اطراف پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھتے ہوئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایل پی جی کی بلا رکاوٹ سپلائی برقرار رکھنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے ہیں۔ سرکاری پریس نوٹ میں کہا گیا کہ عوام گھبراہٹ میں پٹرول، ڈیزل یا ایل پی جی کی غیر ضروری خریداری سے گریز کریں کیونکہ ملک میں کسی قسم کی قلت کا خدشہ نہیں ہے۔ بیان میں شہریوں کو افواہوں سے محتاط رہنے اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری ہونے والی معلومات پر اعتماد کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ حکومت نے ایل پی جی سلنڈر کی بکنگ کے لیے ڈیجیٹل ذرائع استعمال کرنے کی اپیل بھی کی ہے تاکہ غیر ضروری بھیڑ سے بچا جا سکے۔ ساتھ ہی شہریوں کو جہاں ممکن ہو پی این جی، انڈکشن اور برقی چولہوں جیسے متبادل ایندھن کے استعمال کی بھی ترغیب دی گئی ہے۔

مرکزی حکومت نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں گھریلو ایل پی جی اور پی این جی سپلائی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ اسپتالوں، تعلیمی اداروں اور دیگر ضروری خدمات کو بھی اولین بنیاد پر ایندھن فراہم کیا جا رہا ہے۔ حکومت نے ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ گھریلو اور تجارتی صارفین کے لیے نئے پی این جی کنکشن کی فراہمی میں تیزی لائیں تاکہ ایل پی جی پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی اور بلیک مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے حکومت نے سخت اقدامات کیے ہیں۔ مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق مارچ سے اب تک پچاس ہزار سے زائد سلنڈر ضبط کیے جا چکے ہیں اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔

حکومت نے مزید بتایا کہ ملک بھر میں کسی بھی ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر کے پاس سپلائی ختم ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایل پی جی بکنگ میں اضافہ ضرور دیکھا گیا، تاہم ذخائر کافی مقدار میں موجود ہیں۔ اسی دوران تمام ریفائنریاں مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور خام تیل کا مناسب ذخیرہ بھی موجود ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق گھریلو ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے ریفائنریوں میں ایل پی جی کی پیداوار میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ مرکزی حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، افواہوں سے دور رہیں اور غیر ضروری خریداری سے گریز کریں تاکہ ملک بھر میں ایندھن کی فراہمی بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھی جا سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read