Bharat Express DD Free Dish

LPG Crisis

India LPG Import: خلیجی ممالک سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد ہندوستان نے LPG درآمد کے لیے امریکہ پر اپنا انحصار بڑھا دیا ہے۔

گیس صارفین کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ گھریلو گیس کنکشن رکھنے والے صارفین کے لیے ای-کے وائی سی مکمل کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل کو مکمل کرنے کی آخری تاریخ آج 16 اگست مقرر کی گئی ہے۔ ایسے صارفین جو مقررہ مدت تک اپنی ای-کے وائی سی مکمل نہیں کراتے، انہیں اگلے دن سے گیس سلنڈر کی بکنگ اور فراہمی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

آئی جی او ایم میٹنگ کے بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ پٹرول، ڈیزل اور ایل پی جی کی گھبراہٹ میں خریداری نہ کریں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ ملک میں ایندھن کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور سپلائی کا نظام پوری طرح معمول کے مطابق چل رہا ہے۔

سی پی آئی (ایم ایل) کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی مزید بڑھے گی اور ضروری اشیاء کی قیمتوں پر بھی اس کا براہِ راست اثر پڑے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ اس کا اثر زراعت، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں پر بھی پڑے گا، جس سے عام آدمی کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں بھارت اور یو اے ای کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کی اہمیت کئی گنا بڑھ گئی ہے اور آنے والے وقت میں دونوں ممالک ہر شعبے میں مل کر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں،

اگر آپ شہری علاقے میں رہتے ہیں، تو آپ ہر 9 دن کے وقفے پر اپنے سلنڈر کو دوبارہ بھرنے کے اہل ہیں۔ اس کے برعکس، دیہی علاقوں کےیوزر کے لیے، یہ انتظار کا دورانیہ قدرے طویل ہے۔

مرکز کی مودی حکومت نے ہفتہ کے روز بتایا کہ کھاد (فرٹیلائزر) کارخانوں کو مختص کی گئی مجموعی گیس میں مزید 5 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے، جس سے یہ ان کے چھ ماہ کے اوسط استعمال کے تقریباً 95 فیصد تک پہنچ جائے گی۔ یہ اضافہ دستیاب گیس اسٹاک اور طے شدہ ایل این جی کارگو کی سپلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

مظفرپور میں گیس کی کالا بازاری کے خلاف پولیس کو بڑی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ ہائی وے کے کنارے ٹینکر سے سلنڈروں میں گیس بھرنے والے گینگ پر ڈی ایس پی مغربی سچترا کماری کی ٹیم نے چھاپہ مارا۔ موقع سے بین الاقوامی کنکشن والی گاڑی برآمد۔

وزارت پیٹرولیم و قدرتی گیس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باوجود ملک میں توانائی کی فراہمی کو متاثر ہونے سے بچانے کے لیے متعدد سطحوں پر تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ وزارت نے بتایا کہ مختلف متعلقہ وزارتیں اور ادارے باہمی تال میل کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ توانائی، سمندری نقل و حمل اور بیرون ملک مقیم بھارتی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ایل پی جی سپلائی پر دباؤ کے مدنظر حکومت نے کیروسین کے قوانین میں نرمی  کر دی ہے۔  اب ہر ضلع کے دو پیٹرول پمپوں پر مٹی کا تیل دستیاب ہوگا، 21 کیروسین فری ریاستوں میں بھی سپلائی کو  بحال کیا گیا ہے۔