Bharat Express DD Free Dish

LPG Crisis

دو بھارتی ایل پی جی کیریئر — بی ڈبلیو ٹی وائی آر اور بی ڈبلیو ای ایل ایم — خلیجی خطے کو محفوظ طریقے سے عبور کر چکے ہیں اور اب بھارتی ساحلوں کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ ان میں تقریباً 94 ہزار میٹرک ٹن ایل پی جی کارگو لدا ہوا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری سینسیٹو پرائس انڈیکس (ایس پی آئی) کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق 11.67 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی اوسط قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر پنجاب کے مختلف شہروں میں قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

سی سی پی اے نے واضح کیا کہ ایندھن، ایل پی جی، بجلی اور دیگر اخراجات کاروباری لاگت کا حصہ ہیں، جنہیں مینو کی قیمتوں میں شامل کیا جانا چاہیے۔ ان اخراجات کو الگ سے لازمی چارج کے طور پر وصول کرنا غیر منصفانہ تجارتی عمل تصور کیا جائے گا۔

دو بھارتی ایل پی جی جہاز، پائن گیس اور جگ وسنت، محفوظ طریقے سے ہرمز کے سمندری گزرگاہ کو پار کر کے بھارت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومت نے کہا کہ عالمی تیل کے بحران کے درمیان ملک کے شہریوں کو محفوظ رکھنے کے لیے ہر اقدام اٹھایا جا رہا ہے۔

وزیر مملکت سریش گوپی کا بیان: پی ایم یو وائی کے بعد ملک میں ایل پی جی کی رسائی تقریباً ہر گھر تک پہنچ گئی

وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ اس بحران کو تین ہفتوں سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے اور اس کے منفی اثرات دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری اس مسئلے کے جلد حل کے لیے فریقین سے اپیل کر رہی ہے۔

قدرتی گیس کی فراہمی بھی بنیادی علاقوں کو پوری طرح دی جا رہی ہے، گھریلو پی این جی اور سی این جی یوزرکو 100 فیصد سپلائی فراہم کی جا رہی ہے جبکہ صنعتی یوزر کے لیے تقریباً 80 فیصد دستیاب ہے۔

یوزر کی بڑھتی ہوئی طلب کو کم کرنے کے لیے کیروسین اور کوئلے جیسے متبادل ایندھن کا بھی استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ سجاتا شرمانے بتایا کہ گزشتہ دنوں بڑھتی ہوئی طلب میں کمی آ رہی ہے اور بکنگ میں کمی دیکھی گئی ہے؛ 13 مارچ کو 89 لاکھ بکنگز درج کی گئی تھیں، جو آج کم ہو کر 70 لاکھ رہ گئی ہیں۔

چوری کی اس انوکھی اور حیران کن صورتحال کے بعد خاتون نے اپنے نئے سلنڈر کی حفاظت کے لیے غیر معمولی تدبیر اختیار کی۔ انہوں نے سلنڈر کو موٹی لوہے کی زنجیر سے جکڑ دیا اور اس پر بھاری تالا لگا دیا۔ خاتون کے مطابق اب صرف جب کھانا بنانا ہوتا ہے، تب وہ تالا کھولتی ہیں، ورنہ سلنڈر زنجیر سے جکڑا رہتا ہے۔

حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس وقت گیس کا کافی ذخیرہ موجود ہے، لیکن اس کے باوجود ملک کے کئی حصوں میں گیس سلنڈروں کی بلیک مارکیٹنگ کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ مختلف مقامات پر لوگ گیس سلنڈر حاصل کرنے کے لیے قطاروں میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔