نئی دہلی :مرکزی حکومت نے منگل کو کہا کہ ہندوستان نے امریکہ سمیت کئی ممالک سے ایل پی جی کی درآمد شروع کر دی ہے، جب کہ ملک میں سپلائی معمول کے مطابق ہے اور کسی بھی ڈسٹری بیوٹر کے پاس گیس ختم ہونے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت میں جوائنٹ سکریٹری (مارکیٹنگ اور آئل ریفائنریز) سجاتا شرما نے ایک پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ایل پی جی کی اکثریت اس وقت خلیجی ممالک سے حاصل کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہماری تیل کمپنیاں اب امریکہ سے ایل پی جی حاصل کر رہی ہیں اور حکومت ایل پی جی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ اس تنوع کی وجہ سے اب ہمیں زیادہ خام تیل دستیاب ہو رہا ہے۔ ریاستوں کی جانب سے دوبارہ تقسیم کے عمل کے آغاز کے ساتھ ہی تجارتی ایل پی جی کی سپلائی بھی جزوی طور پر بحال ہو گئی ہے۔ یوزر کی بڑھتی ہوئی طلب کو کم کرنے کے لیے کیروسین اور کوئلے جیسے متبادل ایندھن کا بھی استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔ سجاتا شرمانے بتایا کہ گزشتہ دنوں بڑھتی ہوئی طلب میں کمی آ رہی ہے اور بکنگ میں کمی دیکھی گئی ہے؛ 13 مارچ کو 89 لاکھ بکنگز درج کی گئی تھیں، جو آج کم ہو کر 70 لاکھ رہ گئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایل پی جی کی ریفل ڈسٹری بیوشن کی شرح تنازع سے پہلے جیسی ہے اور یوزر سے درخواست کی کہ وہ ذخیرہ اندوزی اور منڈی بازی سے پرہیز کریں۔ وزارت کے مطابق ایندھن کی دستیابی مستحکم ہے، ریفائنریز مکمل صلاحیت سے کام کر رہی ہیں اور پٹرول و ڈیزل کے بھی کافی ذخائر موجود ہیں۔
سجاتاشرماء نے مزید کہا، “کسی بھی ایل پی جی ڈسٹری بیوٹر کے پاس ایندھن کی کمی نہیں ہے اور صارفین کو سپلائی مسلسل جاری ہے۔” ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجہ سے بکنگ میں بھی بہتری آئی ہے۔اسی دوران، بھارتی پرچم والا ایل پی جی ٹینکر ‘نندادیوی ‘ منگل کو گجرات کے ولادیمیر پورٹ پہنچا، جو اس ہفتے مغربی ساحل پر پہنچنے والا دوسرا ایل پی جی جہاز بن گیا۔ ایک دن قبل ‘شیوالک’ مندرا پورٹ پر پہنچا تھا۔دونوں جہاز ہرمز کے خطرناک پانیوں سے گزر کر بھارت پہنچے، جہاں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کی وجہ سے سمندری نقل و حمل متاثر ہو رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

