Bharat Express DD Free Dish

Global Oil Crisis

ایران کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے پر رضامند ہوجائے تو آبنائے ہرمز کو سات دن کے اندر مکمل طور پر کھولا جاسکتا ہے، تہران نے سفارتی حل کے لیے واشنگٹن سے باضابطہ یقین دہانی بھی مانگی ہے۔

دنیا بھر میں توانائی کا بحران مسلسل گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی متاثر ہے، جبکہ سعودی عرب نے عراقی علاقے سے ہونے والے متعدد ڈرون حملوں کے بعد اپنی خام تیل کی پائپ لائن عارضی طور پر بند کر دی ہے۔ دوسری جانب یمن کے بحیرہ احمر کے ساحل پر 18 گھنٹے تک جاری رہنے والے شدید حملے کے بعد حوثی باغی آبنائے باب المندب  پر کنٹرول حاصل کرنے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ یہ تینوں راستے عالمی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتے ہیں۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور سیکریٹری آف وار پیٹ ہیگستھ نے وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز اور نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر یہ معاہدہ طے کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاہدے کے لیے امریکی ٹیکس دہندگان کی جیب سے ایک ڈالر بھی خرچ نہیں کیا گیا۔

بحران کے درمیان امریکہ، ایران سے یورینیم ذخائر حوالے کرنے اور اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران جنگ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور پابندیاں ہٹانے کی شرط رکھ رہا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کورونا وبا کے دوران ملک نے ورک فرام ہوم، آن لائن میٹنگ اور ویڈیو کانفرنسنگ جیسے طریقوں کو کامیابی سے اپنایا تھا۔ ان کے مطابق اب وقت آگیا ہے کہ ان عادتوں کو دوبارہ فروغ دیا جائے تاکہ غیر ضروری سفر کم ہو اور پٹرول و ڈیزل کی بچت ہوسکے۔

ایسا مانا جا رہا ہے کہ خلیجی ممالک پر ایران کے حملے کا مشترکہ جواب نہ دینے کی وجہ سے یو اے ای میں ناراضگی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان کی جانب سے ایران کے خلاف واضح مؤقف نہ اپنانا بھی ایک وجہ ہے۔

1 لیٹر ایتھنول بنانے میں 10 ہزار لیٹر پانی کی بھاری کھپت اور چاول و گنے سے ایندھن بنانے کی حکمتِ عملی نے بھارت میں پانی اور غذائی تحفظ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ’ایتھنول بلینڈنگ‘ پر تیزی سے کام کر رہا ہے۔

عالمی توانائی بحران کے درمیان امریکہ نے بھارت سمیت دیگر ممالک کو روسی تیل خریدنے کی چھوٹ 16 مئی تک بڑھا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد تیل اور گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنا ہے۔

حکومت نے ہفتہ کے روز ڈیژل اور ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) پر ایکسپورٹ ڈیوٹی میں بڑا اضافہ کر دیا ہے۔ ڈیژل پر برآمدی ڈیوٹی 21.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 55.5 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے، جبکہ اے ٹی ایف پر یہ ڈیوٹی 29.5 روپے سے بڑھا کر 42 روپے فی لیٹر کرنے پر حکومت نے کہا ؟ جانیے یہاں۔

ملک میں ممکنہ لاک ڈاؤن سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر مرکزی حکومت نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور معمول کے مطابق زندگی جاری رکھیں۔