Bharat Express DD Free Dish

Price Hike

عالمی سطح پر مہنگائی، بے روزگاری، رہائش کے بحران اور تعلیم سے متعلق مسائل کے خلاف احتجاج تیز ہو رہے ہیں۔ فرانس، بیلجیم، پرتگال، اٹلی، البانیہ، ترکی، ارجنٹینا اور امریکہ میں لوگ حکومتوں کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر اتر رہے ہیں۔

مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے عالمی معیشت کی رفتار سست پڑنے کا خدشہ، 2026 میں ترقی کی شرح 2.6 فیصد رہنے کا اندازہ، جبکہ بھارت 7.3 فیصد کی شرح کے ساتھ سب سے آگے رہے گا۔

ملک بھر میں چینی کی اوسط خوردہ قیمت مسلسل چوتھے دن 60 روپے فی کلو سے نیچے رہی۔ حکومت کی جانب سے درآمد اور ذخیرہ کرنے کی حد سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔

ممبئی میں یکم ستمبر سے دودھ کی قیمت بڑھ کر 102 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔ اس سے پہلے دودھ 93 روپے فی لیٹر میں فروخت ہو رہا تھا۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت سے کئی سوالات کیے۔ انہوں نے کہا کہ تہواروں سے پہلے چینی کی مٹھاس میں مودی حکومت کی پالیسیوں کی کڑواہٹ گھل گئی ہے۔ ملکارجن کڑگے نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے بڑے چینی پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں شامل بھارت میں چینی کا اسٹاک 9 سال کی کم ترین سطح پر کیوں پہنچ گیا ہے؟ا

گیس صارفین کے لیے ایک اہم خبر سامنے آئی ہے۔ گھریلو گیس کنکشن رکھنے والے صارفین کے لیے ای-کے وائی سی مکمل کرانا ضروری قرار دیا گیا ہے۔ اس عمل کو مکمل کرنے کی آخری تاریخ آج 16 اگست مقرر کی گئی ہے۔ ایسے صارفین جو مقررہ مدت تک اپنی ای-کے وائی سی مکمل نہیں کراتے، انہیں اگلے دن سے گیس سلنڈر کی بکنگ اور فراہمی میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

عام صارفین کو ستمبر میں مہنگائی کا ایک اور جھٹکا لگ سکتا ہے۔ روزمرہ استعمال کی کئی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہونے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔

اگست کے مہینے کے آغاز کے ساتھ ہی عام لوگوں کو مہنگائی کا بڑا جھٹکا لگنے والا ہے۔ عالمی سپلائی چین میں رکاوٹوں اور خام مال کی بڑھتی ہوئی لاگت کے باعث چائے، صابن، الیکٹرانکس مصنوعات اور گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہونے جا رہا ہے، جس کا براہِ راست اثر متوسط طبقے کے گھریلو اخراجات اور ماہانہ بجٹ پر پڑے گا۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اپنی تیل کی ضروریات کا تقریباً 85 فیصد درآمد کرنے والے بھارت کے لیے یہ صورتحال ایک بڑا معاشی جھٹکا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر خام تیل کی قیمتیں مزید بڑھتی ہیں تو اس کا براہِ راست اثر پٹرول، ڈیزل، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مہنگائی پر پڑنے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ بالآخر عام صارفین کو برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

وینزویلا میں 7.2 اور 7.5 شدت کے طاقتور زلزلوں کے بعد بھارت کو خام تیل کی سپلائی کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔