کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ہفتہ 22 اگست کو ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ایتھنول پالیسی اور E20 پر بھی حکومت سے سوالات کیے۔ ملکارجن کڑگے کے الزامات پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر امت مالویہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چینی کی قیمت، اسٹاک اور درآمد کو E20 سے جوڑنا آسان سیاسی بیان بازی ہے، لیکن اعداد و شمار اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔امت مالویہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں چینی کی پیداوار، اسٹاک اور درآمد سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ درآمد کا فیصلہ ملک میں چینی کے مجموعی توازن کو دیکھ کر کیا جاتا ہے۔ اس میں پیداوار، کھپت، دستیاب اسٹاک اور قیمتوں جیسے عوامل اہم ہوتے ہیں، نہ کہ صرف E20 پالیسی۔انہوں نے کہا کہ 2025-2026 کے لیے چینی کی ابتدائی پیداوار کا تخمینہ تقریباً 349 لاکھ ٹن تھا، لیکن بعد میں یہ کم ہوکر تقریباً 280 لاکھ ٹن رہ گیا۔ بی جے پی لیڈرکے مطابق پیداوار
میں اس بڑی کمی، چینی کی مستحکم کھپت اور اختتامی اسٹاک میں مسلسل کمی نے موجودہ صورتحال پیدا کی ہے۔
پیداوار اور اسٹاک میں کمی اصل وجہ: بی جے پی
امت مالویہ نے کہا کہ گھریلو بازار میں دستیابی اور قیمتوں کو متوازن رکھنے کے لیے چینی کی درآمد ایک پالیسی کے تحت کیا جانے والا فیصلہ ہے۔ ان کے مطابق موجودہ قیمتوں پر دباؤ کی بنیادی وجہ پیداوار اوراسٹاک میں کمی ہے۔ اسے E20 پالیسی کا نتیجہ قرار دینا دستیاب اعداد و شمار کے برخلاف ہے۔انہوں نے اس سوال کا بھی جواب دیا کہ اگر ملک میں چینی کی کمی ہے تو گنے کو E20 کے لیے ایتھنول بنانے کی طرف کیوں موڑا جارہا ہے۔ امت مالویہ نے کہا کہ E20 کو چینی کی موجودہ کمی کی وجہ بتانا ہی درست نہیں ہے۔ ان کے مطابق بھارت E20 پالیسی سے بہت پہلے بھی چینی درآمد کرتا رہا ہے۔
UPA-II کے دور کا حوالہ
امت مالویہ نے سابقہ یو پی اے حکومت کے دور کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2009-2010 سے 2013-2014 کے درمیان بھارت نے مجموعی طور پر 75.25 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی تھی۔ صرف 2009-2010 میں 41.8 لاکھ میٹرک ٹن چینی درآمد کی گئی تھی، جب کہ اس وقت E20 کا معاملہ موجود ہی نہیں تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر درآمد کا مقصد صرف ملک میں براہ راست کھپت نہیں ہوتا۔ خام چینی کا ایک حصہ پروسیسنگ اور دوبارہ برآمد کے لیے بھی درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس لیے موجودہ درآمد کو صرف E20 پالیسی سے جوڑنا مناسب نہیں ہوگا۔
کھڑگے نے حکومت سے پوچھے تین بڑے سوال
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت سے کئی سوالات کیے۔ انہوں نے کہا کہ تہواروں سے پہلے چینی کی مٹھاس میں مودی حکومت کی پالیسیوں کی کڑواہٹ گھل گئی ہے۔ ملکارجن کڑگے نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے بڑے چینی پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں شامل بھارت میں چینی کا اسٹاک 9 سال کی کم ترین سطح پر کیوں پہنچ گیا ہے؟انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ صورتحال ایسی کیوں ہوگئی کہ حکومت کو چینی کی برآمد روکنے اور 10 لاکھ ٹن چینی ڈیوٹی فری درآمد کرنے کی ضرورت پڑی۔ ملکارجن کڑگے کے مطابق گزشتہ تین ماہ میں چینی کی قیمت تقریباً 40 فیصد بڑھ چکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ تہواروں سے پہلے عوام پر پڑنے والی مہنگائی کی اس مار کی ذمہ داری کس کی ہے۔کانگریس صدر ملکارجن کڑگے نے حکومت سے یہ بھی پوچھا کہ جب ملک میں چینی کی کمی ہے اور بیرون ملک سے چینی درآمد کی جارہی ہے تو گنے اور اناج کو E20 کے لیے ایتھنول بنانے میں استعمال کرنے کی پالیسی پر نظرثانی کیوں نہیں کی جارہی۔ اس معاملے پر کانگریس اور بی جے پی کے درمیان سیاسی بحث تیز ہوگئی ہے اور اب دونوں جانب سے اپنے اپنے دعووں کی حمایت میں اعداد و شمار پیش کیے جارہے ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




