Bharat Express DD Free Dish

sugar

مدھیہ پردیش میں یکم ستمبر 2026 سے بلک کنزیومرز (Bulk Consumers) کے لیے چینی کی اسٹاک حد نافذ کی جارہی ہے۔ نئے ضابطے کے تحت بڑے کاروباری ادارے اور زیادہ مقدار میں چینی استعمال کرنے والے صارفین اب صرف 15 دن کا اسٹاک اپنے پاس رکھ سکیں گے۔

قیمتوں میں اس تیزی کے بعد یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ کہیں حکومت کی ایتھنول پالیسی اس کی وجہ تو نہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیچھے بنیادی وجہ ایتھنول نہیں بلکہ چینی کی پیداوار میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ہیں۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے چینی کی قیمتوں میں اضافے پر حکومت سے کئی سوالات کیے۔ انہوں نے کہا کہ تہواروں سے پہلے چینی کی مٹھاس میں مودی حکومت کی پالیسیوں کی کڑواہٹ گھل گئی ہے۔ ملکارجن کڑگے نے سوال اٹھایا کہ دنیا کے بڑے چینی پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں شامل بھارت میں چینی کا اسٹاک 9 سال کی کم ترین سطح پر کیوں پہنچ گیا ہے؟ا

چینی کی قیمت بڑھنے کے بعد یہ دعویٰ کیا جارہا تھا کہ پٹرول میں ایتھنول ملانے کے لیے چینی کو ایتھنول کی پیداوار کی جانب موڑنے سے بازار میں چینی کی دستیابی کم ہوئی اور قیمتیں بڑھ گئیں۔ تاہم وزارت خوراک و امور صارفین نے جمعہ کو جاری ایک بیان میں اس دعوے کو مسترد کردیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ مہنگائی کا تعلق ایتھنول سے نہیں بلکہ کم گھریلو پیداوار،

آج کل مارکیٹ میں "شوگر فری" یا "زیرو شوگر" کے نام سے بھی متعدد مصنوعات دستیاب ہیں۔ ان میں عموماً سوکرالوز، ایسپارٹیم، سیکرین یا اسٹیویا جیسے کم یا بغیر کیلوری والے میٹھے اجزا استعمال کیے جاتے ہیں، جو خون میں شوگر کی سطح پر کم اثر ڈالتے ہیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی تمام مصنوعات مکمل طور پر صحت بخش ہوتی ہیں،

کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جن میں لوگ چینی موجود ہونے کی توقع نہیں کرتے، لیکن ان میں اضافی شکر کی خاصی مقدار ہو سکتی ہے۔ کیچپ، باربی کیو سوس، پاستا سوس اور سلاد ڈریسنگ میں اکثر اضافی چینی شامل کی جاتی ہے۔ اسی طرح کئی پروٹین بارز اور فلیورڈ یوگرٹ میں بھی ضرورت سے زیادہ شکر موجود ہوسکتی ہے۔ انہیں خریدتے وقت کوشش کریں کہ ان میں پروٹین کی مقدار شکر سے زیادہ ہو۔

انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں مرکزی حکومت کسانوں کی فلاح و بہبود اور صارفین کے ساتھ ساتھ صنعت کے مفادات کے تحفظ کو سب سے زیادہ ترجیح دیتی ہے۔

سال 2021-22 میں ریکارڈ 11 ملین ٹن چینی فروخت کرنے کے بعد، بھارت نے سال 2022-23 میں چینی کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تاکہ ملک میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی سپلائی بلا تعطل رہے اور قیمتیں مستحکم ہو سکیں۔