Bharat Express DD Free Dish

Crude Oil

نومبر کے بعد پہلی بار روسی تیل کی ڈلیوری لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ تجارتی ذرائع کے مطابق روسی یورالز کروڈ مارچ اور اپریل کی ابتدا میں برینٹ سے 4-5 ڈالر زیادہ قیمت پر فروخت ہو رہا ہے، حالانکہ فروری میں یہی تیل برینٹ سے 13 ڈالر سستا تھا۔

گزشتہ چند برسوں کے دوران بھارت نے خلیجی ممالک کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی تیل کی خریداری میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں اب بڑی مقدار میں تیل آبنائے ہرمز کے راستے نہیں آتا۔

پیر کے روز مرکزی وزیر پیٹرولیم و قدرتی گیس ہردیپ سنگھ پوری نے مغربی ایشیا کی صورتحال کے تناظر میں خام تیل، ایل پی جی اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی کا جائزہ لینے کے لیے وزارت اور سرکاری کمپنیوں کے اعلیٰ افسران کے ساتھ میٹنگ کی۔

ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران سعودی آرامکو پر حملے کی خبروں نے بین الاقوامی تیل بازار میں ہلچل مچا دی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی تو خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔

ہردیپ سنگھ پوری نے بتایا کہ بھارت کے مغربی اور مشرقی دونوں ساحلوں پر تیل صاف کرنے کے جدید نظام موجود ہیں، جس سے ملک کی سپلائی چین مضبوط بنی ہوئی ہے۔ بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت اس وقت دنیا میں خام تیل استعمال کرنے والا تیسرا سب سے بڑا ملک ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت آئندہ ایران کے بجائے وینزویلا سے تیل خریدے گا، جس سے نہ صرف کاراکاس کو اقتصادی فائدہ پہنچے گا بلکہ نئی دہلی ایرانی تیل سپلائی سے بھی دور ہو جائے گا۔

اس سے قبل  ٹرمپ نے وینزویلا کے تیل کے حوالے سے ایک اور بڑا بیان دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وینزویلا کی عبوری اتھارٹی 30 سے 50 ملین بیرل اعلیٰ معیار کا تیل امریکہ کے حوالے کرے گی۔ یہ تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا

گزشتہ 12 سے 18 ماہ کے دوران عالمی منڈی میں تیل کی طلب نسبتاً کم اور سپلائی زیادہ رہنے کے باعث قیمتیں دباؤ میں رہی ہیں۔ وینزویلا سے خام تیل کی دوبارہ آمد کے بعد قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی کی توقع کی جا رہی ہے، جو بھارت جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک کے لیے خوش آئند خبر ہوگی۔

برطانیہ نے روس سے تیل درآمد کرنے والی بھارتی کمپنی نیارا انرجی پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ قدم یوکرین جنگ میں روس کی فنڈنگ کو روکنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

گراہم کا کہنا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ فیصلہ کن اقدام کرنے کے لیے تیار ہے اور پیوتن کو 14 جولائی تک فوجی آپریشن روکنے کے لیے 50 دن کا الٹی میٹم دیا گیا ہے بصورت دیگر انہیں سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا جس میں تیل خرید کر روس کی معیشت کو سہارا دینے والے ممالک پر جرمانے عائد کرنا بھی شامل ہے۔